خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ۔۔۔۔۔خیبر پختونخوا میں فوج تعینات

اسلام آباد ۔۔۔۔۔۔وفاقی کابینہ نے خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری دےدی جس کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیے۔اتوار کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اہم ہنگامی اجلاس ہوا جس میں آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے اعلامیہ میں کہاگیاکہ وفاقی کابینہ کو خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتِ حال اور دہشت گردی کی بگڑتی صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے کے پی میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال کا جائزہ لیا۔کابینہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے کے پی حکومت کی دانستہ لاتعلقی کے پیش نظر حالات کا جائزہ لیا، کابینہ نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی کہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کریں، صدرِ مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ کے پی میں ایمرجنسی کا نفاذ کریں۔اعلامیہ کے مطابق صدر کو مشورہ دیں کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232، 234 کے تحت ایمرجنسی نافذ کریں، آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگا دی جائے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ اس ضمن میں وزیرِ اعظم ہاس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی ۔ بعد ازاں صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری پر دستخط کر دیے۔ذرائع کے مطابق صدرِ مملکت نے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کی سمری پر دستخط کیے۔ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں غیرمعمولی شدت سے عوام کے جان و مال کو سنگین خطرات ہیں، صدرِ پاکستان نے خیبر پختونخوا میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔اعلامیے کے مطابق خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی سنگین صورتحال پر ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا۔ایوان صدر نے کہا کہ سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہشت گرد حملے بڑھے، صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے موثر تدارک میں ناکام رہی۔اعلامیے میں کہا گیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ اعلان کیا گیا کہ صوبائی حکومت موجودہ حالات میں آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی، وفاقی حکومت گورنر کے پی کو تمام یا بعض صوبائی امور اپنے اختیار میں لینے کی ہدایت دے سکے گی۔ایوان صدر کی جانب سے کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبے کے دیگر اداروں، حکام کے اختیارات گورنر استعمال کرسکیں گے، وزیرِ اعلیٰ، صوبائی وزرا، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے،صدارتی اعلان فوری طور پر نافذ العمل ہو گا، صدر نے کے پی میں سنگین صورتِ حال کے پیش نظر فوری آئینی اقدام ضروری قرار دیا۔قبل ازیں ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی رپورٹس کے بعد وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ سیکیورٹی صورتِ حال کے تناظر میں آرٹیکل232 کے تحت پورے صوبے میں ایمرجنسی لگائی جائے، بےامنی کا شکار خیبرپختونخوا کے 12اضلاع کے انتظامی امور کا معاملہ الگ سے دیکھا جائے جبکہ سابق فاٹا کے 8 اور ڈی آئی خان، لکی مروت، کرک، کوہاٹ اضلاع کا کنٹرول وفاق کے پاس ہو گا۔ذرائع کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی کو ہی صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے اختیار سونپے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وفاقی کابینہ کی جانب سے منظوری کے بعد گورنر صوبے کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں کے پی پولیس اور حساس اداروں کی 2 خصوصی سیکیورٹی رپورٹس پیش کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 برس کے دوران خیبر پختون خوا میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، دہشت گردی میں مسلسل اضافہ کے پی کی سیکیورٹی صورتِ حال کے لیے سنگین اور تشویشناک چیلنج بن گیا۔حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد عناصر اور سہولت کاروں کے ساتھ صوبائی حکومت کی پالیسی ناقص ہے، ناقص پالیسی اور دہشت گردوں کے لیے نرم گوشے نے خطرات میں اضافہ کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ تیاری، توجہ اور موثر انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں کمی سے دہشت گرد عناصر کو جگہ بنانے کا موقع ملا، یکم مارچ 2024 تا 23 ستمبر 2026 خیبر پختون خوا میں دہشت گردی واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔دہشت گرد نیٹ ورکس، سہولت کاری، غیرقانونی سرگرمیوں کے باہمی روابط کو بھی سیکیورٹی کے لیے چیلنج قرار دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ 2026 میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد کا نشانہ پولیس اور سیکیورٹی ادارے بنے، خیبر پختون خوا میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال میں تشویشناک اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق 2024 میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر کوئی ڈرون حملہ رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ 2026 میں دہشت گردوں کے ڈرون حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی، ایک سال کے دوران دہشت گردوں کے ڈرون حملوں میں تقریبا 107 فیصد اضافہ ہوا۔حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق آئی ای ڈی حملوں کی تعداد 2025 میں بڑھ کر 181 ہو گئی، رواں سال ستمبر تک 159 حملے ریکارڈ کیے گئے، بدلتے دہشت گرد طریقہ کار کے مقابلے میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانا ناگزیر ہے، پورے خیبر پختونخوا کے لیے سیف سٹی منصوبہ تاحال صرف پشاور تک محدود ہے۔

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245کے تحت فوج کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کی تعیناتی انتظامیہ کی معاونت کےلئے ہوگی، فوج شہریوں کی جان کے تحفظ کےلیے تعینات کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق شہریوں کے جان و مال، سرکاری تنصیبات کی سیکیورٹی فوج کے ذمے ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کی تعیناتی 11اکتوبر 2026 کے ایمرجنسی کی مدت تک ہوگی، گورنر خیبرپختونخوا جی ایچ کیو سے مشاورت سے نفری کا تعین کریں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ مل کر دستوں کی تعداد طے کی جائے گی،پاک فوج کی تعیناتی سے متعلق حکم نامہ آئندہ گزٹ آف پاکستان پارٹ ٹو میں شائع کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں