پی ٹی آئی والے یوٹرن لینے کے ماہر ہیں، کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے،عطا تارڑ

اسلام آباد ۔۔۔۔۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے یوٹرن لینے کے ماہر ہیں، کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے،پی ٹی آئی کو اپنی پالیسی کے بارے میں واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ یا افغانستان کے ساتھ کھڑی ہے ،یہ لوگ اپنی دوغلی پالیسی ترک کرنے کو تیار نہیں،حکومت کسی کو بھی ملک میں امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنی پالیسی کے بارے میں واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا افغانستان کے ساتھ۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنی دوغلی پالیسی ترک کرنے کو تیار نہیں۔ وزیراطلاعات نے کہاکہ پی ٹی آئی والے یوٹرن لینے کے ماہر ہیں، یوٹرن لے کر اس پر فخر کرتے ہیں اور کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا افغانستان کے ساتھ، ان کے مطابق سہولیات پاکستان سے حاصل کی جاتی ہیں تاہم ہمدردیاں دہشتگردوں کے ساتھ ہیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس جو کچھ ہے، وہ پاکستان نے دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کا مقف افغانستان کے حق میں نظر آتا ہے کہ ملکی مفاد کے معاملے پر واضح اور دوٹوک پوزیشن اختیار کرنا ہوگی۔انہوںنے کہاکہ یہ جس پالیسی کی بات کرتے ہیں یہ دہشتگردوں کو کور دینے کے مترادف ہے، بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان خیبر پختونخوا میں امن و امان اور انسداد دہشتگردی سمیت مختلف امور پر اختلافات برقرار ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو انسداد دہشتگردی کےلئے 700ارب روپے مل چکے ہیں، اس کے باوجود دہشتگردی کے خلاف موثر اقدامات کی کوئی خواہش نظر نہیں آتی، ان کے مطابق صوبائی حکومت دہشتگردوں کو تحفظ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔عطا ءاللہ تارڑنے کہا کہ پی ٹی آئی کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی بی ٹیم اور افغان طالبان کی سی ٹیم ہے، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی پھیلانے کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔انہوںنے کہاکہ حکومت کسی کو بھی ملک میں امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی، خیبرپختونخوا کے عوام کی جان و مال کا تحفظ اور دہشتگردی کا خاتمہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔عطا تارڑ نے استفسار کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی ایپکس کمیٹی اجلاسوں میں شرکت کیوں نہیں کرتی؟ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور کابینہ افغان طالبان حکومت کی دہشت گردی کی سرپرستی کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ ہونے سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی بڑھی اور معیشت متاثر ہوئی، ریاست پی ٹی آئی کو پرانے بیانیے اور بیان بازی سے عوام کو الجھانے کی اجازت نہیں دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں