تربت…….. نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، مرکزی رہنما سینیٹر جان محمد بلیدی اور رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ، چیرمین بی ایس او بوھیر صالع بلوچ سے تربت کے انجمن تاجران، سماجی رہنماو¿ں اور سیاسی کارکنوں کے ایک بڑے وفد نے ملاقات کی۔ وفد نے تربت میں بڑھتی ہوئی چوری، ڈکیتی اور بدامنی کے علاوہ ایران بارڈر سے اشیائے خورونوش کی ترسیل میں رکاوٹوں، کراچی سے آنے والے آٹا، چینی اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاءپر پابندیوں اور کسٹم و متعلقہ حکام کی جانب سے مبینہ رشوت وصولی کے حوالے سے اپنے شدید تحفظات اور شکایات سے پارٹی قیادت کو آگاہ کیا۔نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سینیٹر جان محمد بلیدی اور رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ نے کہا کہ تربت میں عملاً ڈاکو راج قائم ہوچکا ہے اور پولیس سمیت دیگر سیکیورٹی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ تربت میں کہیں دکھائی نہیں دے رہی، ڈاکو دن دہاڑے اور آزادی کے ساتھ لوگوں کے گھروں میں داخل ہوکر لوٹ مار کر رہے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ بار بار اطلاعات اور شکایات کے باوجود ملزمان کی گرفتاری نہ ہونا انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت اور ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت اپنے شہریوں کو چوروں اور ڈاکوو¿ں سے بھی تحفظ نہیں دے سکتی تو پھر ریاستی اداروں کی موجودگی اور بھاری اخراجات کا جواز کیا ہے؟ تربت کے عوام مزید بے یقینی، خوف اور عدم تحفظ کی کیفیت میں زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں۔نیشنل پارٹی کی قیادت نے کہا کہ ایران بارڈر سے اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیائ کی ترسیل میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کرنا قابلِ قبول نہیں۔ کسٹم حکام فوری طور پر ایسی پابندیاں ختم کریں جو عوام کے لیے مشکلات اور اشیائے ضروریہ کی قلت کا باعث بن رہی ہیں۔ اسی طرح سندھ حکومت کے محکمہ خوراک کی جانب سے بلوچستان آنے والے آٹے، چینی اور دیگر ضروری اشیائ کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا معاملہ بھی ناقابلِ قبول ہے۔ بلوچستان حکومت اس کا فوری نوٹس لے اور عوام کو بنیادی اشیائے خورونوش کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ بارڈر تجارت اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو قانون کے نام پر غیر ضروری طور پر محدود کرنا اور مبینہ طور پر رشوت و بھتہ وصولی کا سلسلہ جاری رکھنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ عوام کو روزگار، کاروبار اور بنیادی ضروریات سے محروم کرنے والی پالیسیاں کس کے مفاد میں بنائی جا رہی ہیں۔نیشنل پارٹی کی قیادت نے پولیس، کسٹم، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ریاستی اداروں کو واضح کیا کہ امن و امان کا قیام، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور اشیائے ضروریہ کی بلا رکاوٹ ترسیل حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت ایک ہفتے کے اندر تربت میں چوری و ڈکیتی کے خاتمے، عوام کے تحفظ اور فوڈز سپلائی میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے میں ناکام رہی تو نیشنل پارٹی تمام سیاسی جماعتوں، انجمن تاجران، سماجی تنظیموں اور عوام کو اعتماد میں لے کر مشترکہ احتجاجی لائح? عمل طے کرے گی اور حکومت کی ناکامی کے خلاف بھرپور سیاسی و عوامی احتجاج کیا جائے گا۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کیچ کے رہنما آل پارٹیز کے کنونیر یونس جاوید، آل پارٹیز کیچ کے ڈپٹی کنونیر فداجان بلیدی، واجہ ابوالحسن ، ڈاکٹر نور ، محمد جان دشتی، مشکور انور،سرتاج گچکی،نوید تاج،انجمن تاجران کے صدر نثار احمد جوسکی، اسحاق بلوچ،اعجاز بلوچ، کہدہ جمیل دشتی، جمال مری اور غلام اعظم دشتی سمیت کارکنوں کی ایک بڑی تعداد پارٹی سکریٹریٹ میں موجود تھے۔
تربت انتظامیہ چوری و ڈکیتی کی روک تھام میں بری طرح ناکام ہے ، ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل