چین عالمی روبوٹکس اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ کا اہم مرکز بن گیا

بیجنگ:بیجنگ ای ٹاﺅن کے بی رین ای ٹرونگ انٹرنیشنل ایگزیبیشن اینڈ کنونشن سینٹر میں منعقد ہونے والی ورلڈ روبوٹ کانفرنس2026 (WRC 2026)غیر ملکی شرکا کی ریکارڈ تعداد کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی جس سے ایمبوڈیڈ مصنوعی ذہانت (AI) اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ کے عالمی مرکز کے طور پر چین کا کردار مزید مستحکم ہوا ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق19 سے 23 اگست تک انسان اور روبوٹ کا باہمی تعاون، پیداوار اور طلب کا امتزاج کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس میں 300 سے زائد نمائش کنندگان نے شرکت کی جبکہ 3 ہزار سے زیادہ جدید مصنوعات نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔ ان میں 311 نئی مصنوعات بھی شامل تھیں۔ کانفرنس کو تقریباً 30بین الاقوامی تنظیموں کی حمایت حاصل رہی جبکہ مرکزی فورم میں شریک افراد میں غیر ملکی مہمانوں کا تناسب تقریباً 30فیصد رہا۔اسپین سے تعلق رکھنے والےالیگزینڈرنے بتایا کہ بین الاقوامی مسافروں کے لیے چین تک رسائی میں بڑھتی ہوئی سہولت بھی غیر ملکی شرکت میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویزا فری سہولتوں میں توسیع اور داخلے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کی پالیسیوں کے باعث 2026 میں چین آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس سے بین الاقوامی ٹیکنالوجی کے شوقین افراد اور کاروباری شخصیات کے لیے بڑی تقریبات میں شرکت آسان ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی فاطمہ نور نے کہا کہ رواں سال کانفرنس میں غیر ملکی دلچسپی بڑھنے کی ایک بڑی وجہ چین کے روبوٹکس شعبے کی تیز رفتار ترقی بھی ہے، جو تجربہ گاہوں میں ہونے والے مظاہروں سے آگے بڑھ کر عملی اور کمرشل استعمال کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شرکا روبوٹس کو پارسلز کی چھانٹی، مصنوعات کی اسمبلنگ، گھریلو کاموں کی انجام دہی، خدمات کی فراہمی اور انسانوں کے ساتھ تعامل کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں، جس سے اس بات کی واضح تصویر سامنے آتی ہے کہ روبوٹکس صنعتوں اور روزمرہ زندگی کو کس طرح تبدیل کر سکتا ہے۔پاکستانی وزیٹر محمد علی نے کہا کہ پاکستان کے لیے اس کانفرنس نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کے دوسرے مرحلے کے تحت تعاون کے وسیع نئے امکانات کو اجاگر کیا ہے۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں ہائی ٹیک تعاون، صنعتی ترقی اور ڈیجیٹل جدت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پاکستانی ٹیکنالوجی وفود، محققین اور تجارتی نمائندوں نے معروف چینی روبوٹکس کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے امکانات کا بھی جائزہ لیا۔رپورٹ کے مطابق کانفرنس کے اختتام کے بعد بھی بیجنگ ای ٹان عالمی روبوٹکس مرکز کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط کر رہا ہے اور ایسی کھلی جدت کو فروغ دے رہا ہے جس سے دنیا بھر کے شراکت دار، بالخصوص بیلٹ اینڈ روڈسے وابستہ ممالک، مستفید ہوسکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں