ایران امریکی صدر کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہو گا،کاظم غریب آبادی

تہران (ویب ڈیسک) ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران امریکی صدر کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہو گا، آبنائے ہرمز کو صرف ایران کی کمان میں بند اور کھولا جائے گا۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیے جانے کی دھمکی پر ردِعمل ظاہر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں رہے گی، اس سے متعلق تمام فیصلے ایران کرے گا اور امریکا کی جانب سے اپنی اسٹریٹجک شکست تسلیم کیے جانے تک ایران ناکہ بندی جاری رکھے گا۔کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ آبنائے ہرمز کو نہ کسی ٹویٹ، نہ کسی طیارہ بردار بحری جہاز، نہ کسی حکم اور نہ ہی کسی انتخابی تقریر کے ذریعے قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔انہوں نے لکھا کہ ایک بار اور ہمیشہ کے لیے حقیقت تسلیم کر لیں کہ اب تک امریکا کو اسٹریٹجک اور بھاری شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔نائب وزیر خارجہ نے یہ بھی کہ آبنائے ہرمز ایرانیوں کی تھی، ایرانیوں کی ہے اور ایرانیوں کی ہی رہے گی، اس آبنائے کو بند اور کھولنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے اور جب تک امریکا شکست کی حقیقت تسلیم نہیں کرتا اور اپنی خیالی خوش فہمیوں سے باز نہیں آتا تو ایران ناکہ بندی جاری رکھے گا۔عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ثالث ممالک پاکستان اور قطر ایران کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاہم پیغامات کا تبادلہ جاری ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کی دھمکیوں یا طاقت کے مظاہرے سے خوفزدہ نہیں۔ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا دعوی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی حملے کی دھمکی کے بعد اپنے بیان میں ترمیم کی، صدرٹرمپ نے ایران کے حملے کی دھمکی کے بعد آبنائے ہرمز کھلنے سے متعلق بیان میں ترمیم کی ۔باقر قالیباف کا کہناتھا کہ جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد ہم نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی، ایران کی مذاکرات روک کر حملے کی دھمکی کے بعد اسی رات آبنائے ہرمز کا محاصرہ ختم کر دیا گیا، ہم مذاکرات کو بھی جنگ سمجھ کرکرتے ہیں۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے ایران اور خطے سے متعلق امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی جھوٹ پر حد سے زیادہ انحصار کا شکار ہے۔اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں روسی مصنف فیودور دوستوئیفسکی کے ناول دی برادرز کرامازوف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ناول کا اقتباس ایران اور خطے سے متعلق امریکی نظام حکمرانی اور خارجہ پالیسی کی درست عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خود سے جھوٹ بولنے اور اس پریقین کرنے والاسچ اور جھوٹ میں فرق نہیں کر پاتا، جھوٹ بولنے والا اپنے اور دوسروں کے لیے تمام احترام کھو دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں