جیکب آباد ( انیس جکھرانی) ،گڑھی خیرو شہر میں بے امنی کی وارداتیں حد سے بڑھ گئیں نامہ نگار جنگ سے پولیس چوکی کے سامنے موٹر سائیکل ڈکیتی کی واردات، شہری سراپا احتجاج ،رپورٹ کے مطابق گڑھی خیرو شہر اور گردونواح میں جرائم پیشہ عناصر کی کاروائیوں، ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں حد سے زیادہ اضافہ ہوگیا ہے، مسلحہ افراد کے ہاتھوں آئے روز اور سر عام شہریوں کو موٹر سائیکل، نقدی اور قیمتی سامان سے محروم کردیا جاتا ہے، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس انتظامیہ کا کردار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، گذشتہ شام شہر کے بیچوں بیچ پولیس چیک پوسٹ بیگاری پل کے سامنے نامعلوم مسلحہ افراد نے سینئر صحافی نامہ نگار روزنامہ جنگ غلام مصطفیٰ جمالی سے اسلحے کے زور پر دن دھاڑے موٹر سائیکل، موبائل فون اور نقدی چھین کر شہر کے درمیان سے ہی فائرنگ کرتے ہوئے با آسانی فرار ہو گئے، بروقت اطلاع کے باوجود گڑھی خیرو پولیس نے کوئی تحرک نہیں لیا نہ ہی واقعے کی تفصیلات معلوم کیں، پولیس انتظامیہ کی بے حسی اور شہر کے اندر بے امنی کی بڑھتی وارداتوں کے خلاف صحافیوں، سیاسی سماجی تنظیموں کے کارکنان اور شہریوں نے اے ڈی کھوکھر ، خادم حسین بروھی، غلام مصطفیٰ جمالی اور دیگر کی قیادت میں پنج گلی چوک سے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ریلی نکالی اور بیگاری پل چوک پر دھرنا، اس موقعے پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رہنماو¿ں نے کہا کہ گڑھی خیرو شہر اور گردونواح کے علاقوں میں حکومتی رٹ بلکل ہی ختم ہو چکی ہے، پہلے گڑھی خیرو سے دیگر شہروں کی طرف جانے والی سڑکیں نوگو ایریا بنی ہوئی تھیں اب شہری اپنے ہی شہر اور گھروں میں بھی غیر محفوظ ہو گئے ہیں، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کا آبائی شہر ہونے کے باوجود یہاں پر امن و امان کی صورتحال بدترین ہوگئی ہے، شام ڈھلتے ہی پولیس تھانوں تک محدود ہو جاتی ہے، جبکہ عام شہری جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں، انہوں نے ایس ایس پی جیکب آباد، ڈی آئی جی لاڑکانہ اور آئی جی سندھ سے معاملے کا نوٹس لے کر صحافی غلام مصطفیٰ جمالی سمیت شہریوں سے لوٹا گیا قیمتی سامان واپس دلوا کر علاقے میں امن و امان کی فضا بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
گڑھی خیرو شہر میں بے امنی کی وارداتیں حد سے بڑھ گئیں
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل