اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر قومی امور رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ دھرنے کی طاقتیں عوام کو رائے دہی سے روکنے میں ناکام ہو چکی ہیں، اب احتجاج ختم کریں تاکہ باقی نشستوں پر بھی الیکشن کرائے جاسکیں،ریاست کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو اپنے جرائم کا حساب دینا ہوگا، معمولی نوعیت کے واقعات کے علاوہ باغ اور حویلی میں کوئی بڑا پرتشدد واقعہ رپورٹ نہیں ہوا، پیپلز پارٹی اپنی شکست کو دھاندلی کے الزامات کے ذریعے کور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔وفاقی وزیر امیرمقام نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ ن کی قیادت اور امیدواروں پر اعتماد کا اظہار کیا، اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو عوام سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے اور انہیں مایوس نہیں کریں گے،پیپلز پارٹی کی جانب سے بار بار الزامات لگانا ”چور مچائے شور“ کے مترادف ہے۔ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ نے کہا کہ دھرنے کی طاقتیں اپنے بنیادی مقصد، آزاد کشمیر کے عوام کو حقِ رائے دہی سے روکنے میں ناکام ہو چکی ہیں، دھرنا دینے والے اپنا احتجاج ختم کریں تاکہ باقی نشستوں پر بھی ضمنی انتخابات کے ذریعے عوامی نمائندے اسمبلی کا حصہ بن سکیں، منتخب حکومت آزاد کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات اور وسائل کی فراہمی پر ضرور عمل کرے گی۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ہتھیار اٹھانے، عوام کو ورغلانے اور تحریک آزادی جموں و کشمیر کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا، ریاست کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو اپنے جرائم کا حساب دینا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ حویلی اور باغ کے حلقوں میں صبح 8 بجے سے پولنگ کا عمل پرامن طور پر جاری ہے، حویلی میں ایک پولنگ اسٹیشن پر انتخابی عملے سے ریکارڈ چھیننے کی کوشش کی گئی، رینجرز اور پاک فوج پر مشتمل کیو آر ایف نے فوری کارروائی کرکے صورتحال پر قابو پالیا،حویلی کے متاثرہ پولنگ اسٹیشن پر فوری طور پر پولنگ کا عمل بحال کر دیا گیا، باغ کے ایک حلقے میں تین پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ روکنے کی مبینہ کوشش کی گئی،باغ میں کیو آر ایف نے بروقت پہنچ کر پولنگ کا عمل بحال کرایا۔انہوںنے کہا کہ معمولی نوعیت کے واقعات کے علاوہ باغ اور حویلی میں کوئی بڑا پرتشدد واقعہ رپورٹ نہیں ہوا، دیرکوٹ کے ناڑا کوٹ پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالنے آئے بزرگ شہری کو دل کا دورہ پڑا، بزرگ شہری کو فوری طبی امداد دی گئی تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے، ناڑا کوٹ واقعے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہ کی جائے۔رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی شکست کو دھاندلی کے الزامات کے ذریعے کور کرنے کی کوشش کر رہی ہے،آج انتخابی عمل میں گزشتہ روز کے مقابلے میں زیادہ جوش و خروش نظر نہیں آ رہا، قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری مستعدی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں،کیو آر ایف کی اضافی نفری پورے انتخابی عمل کو سکیورٹی کور فراہم کر رہی ہے، آج کی پولنگ مکمل ہونے کے بعد آزاد کشمیر کے انتخابات کے تینوں مراحل مکمل ہو جائیں گے، آزاد کشمیر میں دھاندلی کے الزامات لگانے والوں نے آج تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا، مخالفین صرف پولنگ کے شرح 80 یا 85 فیصد ہونے کو دھاندلی کا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں رانا ثناءاللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مضبوط خاندانی اور برادری نظام کے باعث بعض علاقوں میں ٹرن آ¶ٹ زیادہ ہونا غیر معمولی بات نہیں، کسی گا¶ں میں 230 رجسٹرڈ ووٹرز ہوں تو فوت شدہ افراد کے علاوہ باقی ووٹرز کا ووٹ ڈالنا کوئی حیران کن بات نہیں، بعض پولنگ اسٹیشنز پر 80 فیصد تک ووٹنگ ہوئی، اس کی وجوہات مقامی برادری اور خاندانی نظام سے جڑی ہیں، مخالف امیدواروں کے اپنے یونین کونسلز اور پولنگ اسٹیشنز پر بھی 80 فیصد سے زائد ووٹ کاسٹ ہوئے، بعض امیدواروں کے اپنے پولنگ اسٹیشن پر 96 فیصد تک ووٹنگ ہوئی، 96 فیصد ووٹنگ والے پولنگ اسٹیشن کا ریکارڈ بھی پیش کیا گیا، وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے آزاد کشمیر میں شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا، آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے مینڈیٹ کا اظہار کر دیا ہے، عوام کے مینڈیٹ کے مطابق آزاد کشمیر اسمبلی اور حکومت سازی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا، آزاد کشمیر میں انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد اسمبلی اور حکومت سازی کے مراحل آئینی طریقہ کار کے مطابق مکمل ہوں گے۔اس موقع پروفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ ن کی قیادت پر اعتماد کیا، دل کی گہرائیوں سے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ ن کی قیادت اور امیدواروں پر اعتماد کا اظہار کیا، اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو عوام سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے اور انہیں مایوس نہیں کریں گے،پیپلز پارٹی کی جانب سے بار بار الزامات لگانا ”چور مچائے شور“ کے مترادف ہے، پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے رات سے مسلسل شکایات اور الزامات سمجھ سے بالاتر ہیں۔ امیر مقام نے کہا کہ صبح سے پیپلز پارٹی کے مختلف رہنما ایک کے بعد ایک پریس کانفرنسز کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے الزامات اور شکایات سے انہیں آخر کیا حاصل ہوگا؟ حویلی کے جلسے میں عوام کی بڑی تعداد نے واضح کر دیا تھا کہ عوامی رجحان کس طرف ہے، انتخاب سے پہلے ہی حویلی کے جلسے میں عوام کی بڑی تعداد اور جوش و جذبہ سب کے سامنے تھا، عوامی اجتماعات سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ عوام کس سیاسی جماعت کے ساتھ ہیں، پیپلز پارٹی کو روزانہ الزامات لگانے کے بجائے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے، پیپلز پارٹی کی پریس کانفرنس میں لگائے گئے اعتراضات حیران کن ہیں، آزاد کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات کا فیصلہ حالات و واقعات کو دیکھ کر مشترکہ طور پر کیا گیا تھا، مرحلہ وار انتخابات پر تحفظات تھے تو پیپلز پارٹی کو اسی وقت اپنا م¶قف سامنے رکھنا چاہیے تھا۔ امیر مقام نے کہا کہ آزاد کشمیر انتخابات میں پنجاب کے ساتھ سندھ اور خیبرپختونخوا سے بھی سکیورٹی اہلکار آئے ہیں، صرف پنجاب سے پولیس اہلکار آنے کا اعتراض بلاجواز ہے، سندھ اور خیبرپختونخوا سے بھی اہلکار تعینات کیے گئے،2016 میں آزاد کشمیر میں شفاف انتخابات منعقد ہوئے تھے، 2016 کے انتخابات میں بھی مختلف صوبوں سے سکیورٹی اہلکار آزاد کشمیر آئے تھے، پیپلز پارٹی نے سندھ سے بھی اپنے لوگ آزاد کشمیر بلائے تھے، آزاد کشمیر میں عوامی لہر واضح ہے، آج بھی پیپلز پارٹی انتخابات ہار چکی ہے، آزاد کشمیر کے عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کیا جانا چاہیے،آزاد کشمیر کی تاریخ میں 2016 کے انتخابات شفاف ہوئے تھے، آج بھی لوگ ان انتخابات کو یاد کرتے ہیں، پیپلز پارٹی نے انتخابات سے پہلے بھی مختلف ہتھکنڈوں اور انتظامی معاملات سے متعلق شکایات کیں، پیپلز پارٹی کا الزام تھا کہ ڈی سی اور کمشنرز سمیت انتظامی افسران ان کے خلاف کام کر رہے ہیں، تمام تر اعتراضات اور انتخابی سرگرمیوں کے باوجود پیپلز پارٹی کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی، پیپلز پارٹی نے سندھ سمیت مختلف علاقوں سے اپنے کارکنان اور لوگ آزاد کشمیر بلائے، عوامی لہر ایک طرف ہو تو سیاسی جماعتیں تمام کوششوں کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکتیں،عوام نے پہلے بھی پیپلز پارٹی کو مسترد کیا اور ان شاءاللہ آج بھی شکست دیں گے، امیر مقام نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عوام کی بڑی تعداد کا انتخابات میں نکلنا جمہوریت کی بڑی کامیابی ہے، کشمیری عوام نے مشکل حالات کے باوجود بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کر جمہوری نظام پر اعتماد کا اظہار کیا،انتخابات میں عوام کی بڑی شرکت آزاد کشمیر کے عوام اور ریاست دونوں کی کامیابی ہے، خدشات کے باوجود عوام نے بڑی تعداد میں نکل کر ثابت کیا کہ وہ اپنے حقِ رائے دہی کے لیے پُرعزم ہیں،کشمیری عوام نے واضح پیغام دیا کہ وہ اپنے ووٹ اور رائے کے معاملے میں آزاد اور خودمختار ہیں، کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ جمہوری نظام آگے بڑھے، پیپلز پارٹی بار بار یہ سوال کر رہی ہے کہ اسے ووٹ اور نشستیں کیوں نہیں ملیں، ووٹ اور نشستیں دینا کسی سیاسی جماعت، حکومت یا الیکشن کمیشن کا نہیں بلکہ عوام کا اختیار ہے، پیپلز پارٹی کو عوام سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے اس کی کارکردگی اور وعدوں پر اعتماد کیوں نہیں کیا، عوام نے پیپلز پارٹی کی قیادت اور ماضی کی کارکردگی کو دیکھ کر فیصلہ کیا، عوام نے مسلم لیگ ن کی قیادت اور اس کی سابقہ کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا، پیپلز پارٹی کو الزامات کے بجائے اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا جائزہ لینا چاہیے، سیاسی جماعتوں کو شکست کی وجوہات کا جائزہ لے کر اپنی خامیاں دور کرنی چاہئیں
پیپلز پارٹی کی جانب سے بار بار الزامات لگانا ”چور مچائے شور“ کے مترادف ہے، رانا ثناءاللہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل