لاہور۔۔۔۔۔۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی سے منسلک ہیں، عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی آتے ہی اس کا فائدہ پاکستانی عوام کو بھی منتقل کیا جائے گا، آئندہ 2 روز میں عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو اچھی خبر خود بخود سامنے آ جائے گی،حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے مکمل شفافیت یقینی بنائے گی اور درآمدی توانائی کی تمام لاگت اوگرا کی ویب سائٹ پر عوام کے سامنے رکھی جائے گی۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے قوم کو 79ویں یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 14 اگست کو ہمیں اس عزم کا اظہار کرنا ہے کہ سب مل کر پاکستان میں نئی خوشحالی کا دور شروع کریں گے،ہم سب نے مل کر ملک کو علامہ اقبال اور قائداعظم کا پاکستان بنانا ہے۔نواز شریف نے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کاوشوں سے مکہ معاہدہ ہوا جس پر پوری قوم کو فخر ہے، حکومت کی حکمت عملی اور مضبوط فوج کے باعث پاکستان کی ترقی کے لیے نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔حکومت قوم سے وعدہ کرتی ہے کہ اگلی منزل معاشی میدان میں ترقی ہے اور اس مقصد کے لیے بھرپور کاوشیں جاری ہیں۔ پاکستان نیٹ سکیورٹی مہیا کرنے والا ملک ہے جو خطے میں امن اور تحفظ کا ضامن ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے نکالا، اب حکومت کا کام ملک کو مستقل ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ ایران اور امریکہ کی جنگ کے باعث پاکستان کو وقتی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، دنیا میں خام تیل کی قیمت 170 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تاہم پاکستان میں پیٹرول کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک جن کی معیشت پاکستان سے ملتی جلتی ہے، وہاں شناختی کارڈ دیکھ کر ایک سے دو لیٹر پیٹرول لینے کے لیے بھی ہلاکتیں ہوئیں لیکن پاکستان میں ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی،جنگ بندی کے بعد عالمی سطح پر قیمتوں میں آنے والی کمی کا فائدہ حکومت نے عوام تک پہنچایا، ٹرانسپورٹ ہو یا موٹرسائیکل استعمال کرنے والے شہری، بڑھتی قیمتوں کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام کے ہوتے ہوئے بھی عوام کو سبسڈی دی گئی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ بین الاقوامی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک شفاف طریقے سے عوام کے سامنے رکھی جائیں گی، حکومت بیرون ملک سے جو توانائی درآمد کرتی ہے اس کی تمام لاگت اور نرخ اوگرا کے ویب پیج پر شائع کیے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ میں کوئی جادوگر یا نجومی نہیں کہ مستقبل کی قیمتوں کی پیشگوئی کرسکوں تاہم اوگرا کی ویب سائٹ پر تمام تفصیلات عوام کے سامنے ہوں گی، پیٹرول کی عالمی قیمت جیسے ہی کم ہوگی، پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت کم ہو جائے گی۔انہوں نے وضاحت کی کہ پیٹرول کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ 7 دن کے تناسب سے طے کی جاتی ہے،اگر عالمی منڈی میں ایک دن میں 20، 20 ڈالر تک قیمتوں میں اتار چڑھا ﺅآ رہا ہو تو اس کے اثرات برداشت کرنا ہوں گے۔پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے،سابق حکومتوں نے مقامی گیس اور تیل کے ذخائر کی دریافت کے لیے خاطر خواہ انتظام نہیں کیا جس کے باعث آج ہمیں بیرون ملک سے توانائی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان، وزیرستان اور دیگر علاقوں میں گیس جبکہ بعض علاقوں میں تیل کے ذخائر موجود ہیں، سوال یہ ہے کہ ان وسائل سے ماضی میں خاطر خواہ فائدہ کیوں نہیں اٹھایا گیا، پاکستان میں تیل کی یومیہ طلب تقریباً5 لاکھ بیرل ہے۔حکومتوں میں پیٹرولیم لیوی تو اکٹھی ہوتی رہی لیکن تیل کے ذخائر نہیں بنائے گئے، وزیراعظم شہباز شریف نے گڈ میکینزی کمپنی کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ 3 ماہ میں بتائے کہ پاکستان 90 روز تک کا پیٹرولیم ذخیرہ کس طرح قائم کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ کے تیل کے ذخیرے کے لیے تقریباً 500 ملین ڈالر درکار ہوں گے، جبکہ زیر زمین اسٹوریج کا نظام قائم کرنے پر تقریباً 400 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ پاکستان میں یہ بحث شروع ہونی چاہیے کہ تیل ذخیرہ کرنے کے لیے سرمایہ کاری کس طرح کی جائے۔حکومت آئندہ چند ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کی منصوبہ بندی سے آگاہ کرے گی۔ سعودی عرب، کویت اور قطر کی حکومتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کی محفوظ سرحدوں پر تیل ذخیرہ کرنے اور ضرورت کے وقت دنیا سے وسائل خریدنے کی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں جنگی صورتحال پیدا ہوئی تو پاکستان کے پاس وسائل خرید کر اپنی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ پاکستان ایران اور روس سے سستا یا کڑوا تیل لے کر اپنی توانائی کی ضرورت پوری کیوں نہیں کرتا لیکن اس کے لیے ملک میں ریفائنریوں کو جدید بنانے اور کڑوے تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے۔اس مقصد کے لیے تقریباً 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے،جب تک ریفائنری پالیسی اور ضروری سرمایہ کاری نہیں ہوگی، ایران یا روس سے تیل لا کر اسے ملکی ریفائنریوں میں صاف کرنا ممکن نہیں ہوگا،دنیا سے سرمایہ لاکر پاکستان کی ریفائنریوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ کڑوے تیل کو صاف کرسکیں۔علی پرویز ملک نے کہا کہ اگر پاکستان نے 1500 ارب روپے کے واجبات ادا نہ کیے ہوں تو کوئی نئی کمپنی ملک میں سرمایہ کاری کیوں کرے گی۔وفاقی وزیر پیٹرولیم نے دعوی کیا کہ حکومت نے ایک سال کے دوران گردشی قرضے کے بہا ﺅکو روک دیا ہے اور اس سال 30 جون کو گردشی قرضے میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمت گزشتہ ایک سال سے پرانی سطح پر ہے جبکہ اصلاحات کے ذریعے گردشی قرضے کے مسئلے کو حل کرنے اور آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر 1500 ارب روپے کی ادائیگی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔علی پرویز ملک نے بتایا کہ ترکیہ کی کمپنیوں نے پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے، تقریباً 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے ترکیہ سے سمندری جہاز پاکستان لایا جائے گا اور ستمبر یا اکتوبر میں آف شور ڈرلنگ کا افتتاح کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر متعدد کمپنیاں تیل اور گیس کے نئے کنویں کھودنے کے لیے کوششیں کررہی ہیں اور حکومت ملکی توانائی کے وسائل کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانے کی کوشش کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران مقامی ایل پی جی 200 روپے سے بڑھ کر 600 روپے تک عوام کو فروخت کی گئی،سوال یہ ہے کہ عوام کی اس تکلیف سے کون لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور عوام کا خون کون چوس رہا ہے۔ایل پی جی کے شعبے میں ایلیٹ اور اشرافیہ کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے پانچ، پانچ ٹن ایل پی جی کی نیلامی کرانے کی ہدایت کی گئی ہے،آج پیر کو او جی ڈی سی ایل، آئل، پارکو اور جی ایچ پی ایل پانچ، پانچ ٹن ایل پی جی کی نیلامی کھولیں گے تاکہ اس مافیا اور اجارہ داری کے نظام کو ختم کیا جاسکے۔گیس کے شعبے میں نئے کنکشن موجودہ حکومت نے شروع کیے ہیں تاہم قطر سے ایل این جی کی فراہمی شروع ہونے کے بعد مزید گیس کنکشن کھولنے پر پیشرفت ہوگی۔اگست میں ورلڈ بینک کی گیس سے متعلق سفارشات سامنے آئیں گی، جن کی روشنی میں عوام کو سستی گیس فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ بجلی کے شعبے کو تحفظ دینے کے لیے گیس کا رخ بجلی کی پیداوار کی طرف کیا گیا ہے، تاہم قطر سے گیس کی فراہمی بحال ہوتے ہی گیس کنکشن کی پالیسی پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی سے متعلق پیٹرول ڈیلرز کے مطالبات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیلرز اور او ایم سیز کے جو جائز مطالبات ہیں انہیں تسلیم کیا جائے گا۔حکومت مشکل گھڑی میں عوام کی سہولت کو مقدم رکھنا چاہتی ہے، پیٹرول ڈیلرز نے پاکستان کو ایک بڑے بحران سے نکالنے میں کردار ادا کیا ہے، انہیں بھی کچھ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ کمرشل بانڈز سکیم معاشی کمیٹی کے پاس جاچکی ہے اور آئندہ ہفتے اس پر فیصلہ ہوگا جس کے بعد اس معاملے میں مزید پیش رفت نظر آئے گی۔حکومت توانائی کے شعبے میں شفافیت لانے کے لیے اوگرا کو تحفظ دے گی اور ادارے کو موثرانداز میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 2022 میں ایک وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمت کم کرکے تالیاں تو بجوائیںلیکن اس کے نتیجے میں پاکستان گھٹنوں پر آگیا، بعد ازاں بحرانی صورتحال میں پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا اور ملک کو دوبارہ مستحکم کرنا پڑا۔حکومت نے بجٹ خسارے پر قابو پانے اور مالی نظم و ضبط کے لیے وزارت خزانہ کے ذریعے معاہدے کیے ہیں،اگر ان معاہدوں کی پاسداری نہیں کی جائے گی تو یہ پاگل پن ہوگا اور نتائج بھی سابق دور جیسے ہی ہوں گے۔جب تک متبادل توانائی کے وسائل کا انتظام نہیں کیا جائے گا، غیر ذمہ دارانہ فیصلوں کے نتیجے میں دوبارہ وہی صورتحال پیدا ہوگی جس میں نوٹ چھاپ کر اخراجات پورے کرنے پڑتے ہیں اور اس کی قیمت عوام مہنگائی کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے معاہدوں کی پاسداری یقینی بنائی اور عوام کو سہولت دینے کے لیے عالمی حالات کے باوجود اقدامات کیے۔ملک میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر انہوںنے کہا کہ اس معاملے پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے،کوئی ایک فارمولا لازماً دوسرے سے بہتر یا بدتر نہیں ہوتا، اس حوالے سے اسمبلیوں میں بحث ہونی چاہیے۔نئے صوبوں کے قیام یا آئین میں کسی بھی ترمیم کے لیے آئینی راستہ اور باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے،موجودہ صورتحال میں جب عوام مشکلات کا شکار ہیں تو اس معاملے پر بحث ضرور ہونی چاہیے۔انہوںنے بتایا کہ ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کرنے جا رہی ہے، اس کے بعد ایک بڑی سرمایہ کاری آئے گی۔
پیٹرول کی عالمی قیمتیں برقرار رہیں تو اگلے 2 روز میں اچھی خبر مل سکتی ہے علی پرویز
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل