80 سال سے بلوچستان کے مسائل جوں کے توں ہیں ‘ لشکری رئیسانی

کوئٹہ :بلوچستان کے قبائلی سیاسی و مذہبی رہنماﺅں نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی، سردار احمد خان غیبزئی، مولانا محمد خان شیرانی، سابق نگران وزیر اعلیٰ نواب غوث بخش باروزئی، عبدالمتین اخوندزادہ پروفیسر فائزہ میر، ڈاکٹر لعل محمد کاکڑ، جہاں آرا تبسم ، علی احمد بیگ سمیت دیگر نے احمد خان غیبزئی کی کتاب واشنگٹن سے بیجنگ تک کی تقریب رونمائی کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی عمل جذبات اور علم کے ذریعے آگے بڑھتا ہے لیکن ہمیں اس کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ ایجادات کے ذریعے ہی قومیں ترقی کرتی رہی ہیں۔ اس وقت ہم جس بحران سے گزر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے، ہمیں آج تک امن اور ترقی کے وہ زینے چڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور ہمیں آئے روز مختلف مسائل ، بحرانوں اور دیگر معاملات میں الجھایا جاتا رہا ہمیں اپنے قومی حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کیلئے متحد ہوکر آگے بڑھنا ہوگا جس طرح کراچی میں 13 سال سے زائد عرصے تک لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کرکے ہزاروں لوگوں کو موت کی نیند سلایا گیا ان کا ایک بھی ٹارگٹ کلر گرفتار نہیں ہوا اسی طرح بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کبھی مذہب ، کبھی قومیت کے نام پر کرکے مختلف بحرانوں میں صوبے کو دھکیلے گیا لیکن کوئی معلوم گرفتار نہیں ہوا عالمی سامراجی قوتوں نے گریٹ گیم کے ذریعے ہمارے ملک اور صوبے کو بحرانوں میں دھکیل رکھا ہے گزشتہ 80 سال سے بلوچستان کے مسائل جوں کے توں ہیں کیونکہ روز اول سے ہی بلوچستان کے مسائل کی غلط تشریح کی گئی اور اس کی پسماندگی کو سرداروں کے ساتھ جوڑ کر کہا گیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ یہاں پر ترقی ہو اسی لئے لیویز کو ختم کرکے بحران پیدا کئے گئے ۔ مقررین نے کہا کہ جب تک کردار نہیں بدلیں گے انجام نہیں بدلے گا۔ ہمارا خطہ انگریز سامراج کا بنایا ہے جس کی وجہ سے ہم آج تک آزاد پالیسیوں اور عوام کے حقوق کے حصول کیلئے آزادانہ اقدامات نہیں اٹھا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں