کراچی: سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ ایڈووکیٹ امجد حسین نے ہفتے کے روز بین الصوبائی تعاون کو مضبوط بنانے اور ریونیو میں اضافے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پی پی پی) اور قدرتی آفات کے بعد گھروں کی تعمیر نو کے شعبوں میں سندھ کے کامیاب تجربات شیئر کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کا ورچوئل اجلاس منعقد کیا۔اجلاس میں گلگت بلتستان حکومت کو جدید ریونیو اتھارٹی کے قیام کے ذریعے اپنے ذرائع سے ریونیو وصولی بڑھانے، پی پی پی منصوبوں کے ذریعے بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کی فراہمی تیز کرنے اور سندھ کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ سیلاب سے محفوظ گھروں کے پروگرام کو گلگت بلتستان میں بھی اپنانے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے تزویراتی رہنمائی فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ابتدا میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انہیں تین اہم شعبوں میں گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ قریبی رابطہ اور مضبوط ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ گھروں کی تعمیر، پی پی پی منصوبوں بالخصوص بجلی کی پیداوار اور سیاحت کے شعبوں کا فروغ، اور سندھ ریونیو بورڈ کی طرز پر ریونیو اتھارٹی کا قیام شامل ہے۔مراد شاہ نے کہا، “گلگت بلتستان میں سیاحت، پن بجلی اور خدمات کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل گورننس اور جدید مالیاتی ماڈلز کے ذریعے اس صلاحیت کو پائیدار معاشی ترقی اور بہتر عوامی خدمات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔”وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعلیٰ ہاو¿س سے اجلاس میں شرکت کی، ان کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی جمیل سومرو، وزیر اعلیٰ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور سرمایہ کاری کے لیے معاون خصوصی قاسم نوید، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ واصف میمن، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ اسد زمن اور سندھ پیپلز ہاو¿سنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد شیخ بھی موجود تھے۔
وزیر اعلی سندھ اور گلگت بلتستان کے ہم منصب کا ورچوئل اجلاس ‘مختلف شعبوں میں روابطہ جاری رکھنے پر اتفاق
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل