علیمہ خان کا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے تحریک شروع کرنے کا اعلان

سوات ۔۔۔۔۔بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے تحریک شروع کرنے کا اعلان کر تے ہوئے کہاہے کہ اب ڈی چوک کی کہانی ختم ہونی چاہیے، کارکن اڈیالہ جیل جانے کی تیاریاں شروع کریں جس کے حوالے سے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان جلد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے۔ مینگورہ کے سہراب خان چوک، کبل چوک، مٹہ چوک اور بریکوٹ چوک میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو نو ماہ سے قید تنہائی میں رکھ کر انہیں توڑنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے لیے کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں، وہ ایک غیرت مند انسان ہیں، اس لیے ان کی رہائی کے لیے احتجاج کیا جائے اور حکمرانوں پر دباﺅ ڈالا جائے۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان سے بنیادی حقوق بھی چھین لیے گئے ہیں، قید تنہائی ختم کرنے اور علاج کی فراہمی سے متعلق عدالتی احکامات پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ علیمہ خان نے کہا کہ اب تحریک کا رخ ڈی چوک کے بجائے اڈیالہ جیل ہوگا کیونکہ عمران خان خود نہیں چاہتے کہ کارکنوں کی جانیں ضائع ہوں، اس لیے کارکن منظم ہو کر اڈیالہ جیل پہنچیں اور حکومت پر دباﺅ بڑھائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت لوگوں کی آواز دبانا چاہتی ہے، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کی نشستیں چرائی گئیں اور حکمران عمران خان سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج عمران خان کو پورے پاکستان کی ضرورت ہے، ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے، کشمیر اور بلوچستان میں لوگ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پارٹی کے منتخب نمائندوں اور تنظیموں کے ساتھ متحد ہو کر تحریک کو کامیاب بنائیں کیونکہ یہ ایک روزہ نہیں بلکہ مسلسل جاری رہنے والی تحریک ہوگی جبکہ اس کے اگلے مرحلے کا اعلان وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ممکن ہے انہیں بھی جلد گرفتار کر لیا جائے، اسی لیے وہ عوام کے درمیان آئی ہیں اور کارکنوں سے عمران خان کو کبھی تنہا نہ چھوڑنے کا عہد بھی لیا۔ انہوں نے جنگلات کی کٹائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کارکنوں سے اپیل کی کہ اگر وہ عمران خان کو تحفہ دینا چاہتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی سلیم الرحمن، رکن صوبائی اسمبلی فضل حکیم، پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی علیمہ خان کے ہمراہ تھے جبکہ مختلف مقامات پر کارکنوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور عمران خان کی رہائی کے لیے شروع کی گئی تحریک کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں