بلوچستان کے سلگتے مسائل کے حل کے لیے قومی کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے، لیاقت بلوچ

کوئٹہ۔۔۔۔جماعت اسلامی بلوچستان کی صوبائی مجلس شوری کا ایک روزہ اجلاس صوبائی امیر و رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی زیر صدارت کوئٹہ میں منعقد ہوا، جس میں جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان کی سیاسی، امن و امان، معاشی اور تنظیمی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالحق ہاشمی، عبدالمتین اخوندزادہ، صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضی خان کاکڑ، نائب امرا زاہد اختر بلوچ، مولانا عبدالکبیر شاکر، ڈاکٹر عطا الرحمن، پروفیسر محمد ایوب منصور، مولانا محمد عارف دمڑ، مولانا حافظ نور علی، حافظ مطیع الرحمن مینگل سمیت صوبہ بھر سے اراکین شوری شریک ہوئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ظلم، جبر، غلط پالیسیوں اور ناانصافیوں کے باعث شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سلگتے مسائل کے حل کے لیے قومی کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے انعقاد کے لیے جماعت اسلامی نے مختلف قومی سیاسی قیادت سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوامی حقوق کے حصول کے لیے جماعت اسلامی کے کوئٹہ تا اسلام آباد لانگ مارچ کو ایک سال مکمل ہونے کے باوجود مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام، عوامی حقوق، امن اور روزگار کی فراہمی کے بغیر بلوچستان کے مسائل کا حل ممکن نہیں۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان اس وقت سیاسی اور معاشی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی قیادت کو نظر انداز کرکے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے اور ملک میں جمہوری عمل کو مضبوط بنانا ہوگا۔اس موقع پر صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی حقوق، ظلم کے خاتمے اور خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے ذمہ داران پر زور دیا کہ تنظیمی منصوبہ بندی، رکن سازی مہم اور مالی استحکام کے اہداف پر بھرپور عمل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان میں ہزاروں بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے، یتیموں کی کفالت اور فلاحی خدمات کے ذریعے عملی کردار ادا کر رہی ہے، جبکہ جماعت کے خلاف کیے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا جواب عوامی خدمت اور عملی کارکردگی سے دیا جائے گا۔اجلاس میں زیارت، ہنہ اوڑک اور دیگر واقعات کے شہدا کے لیے دعائے مغفرت، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں امن و امان، بارڈرز کی بندش، تجارت، شاہراہوں کی صورتحال، بدامنی، سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، جبری گمشدگیوں، تعلیم، صحت، روزگار، پانی کی قلت، تنظیمی امور، ششماہی منصوبہ عمل، رکن سازی مہم، بجٹ اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں بے روزگاری، بارڈر بندش، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، خشک سالی اور زرعی بحران نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مذاکرات، مشاورت، جرگوں اور سیاسی عمل کو فروغ دیا جائے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو اور صوبے کو درپیش مسائل کا دیرپا حل نکالا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں