مظفرآباد:چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زردارینے کہا ہے کہ فوج ہماری ریڈ لائن ہے کشمیر سے پاک فوج کے خلاف اٹھنے والی کوئی آواز بھی نا قابل قبول ہے ۔ معرکہ حق میں پاک فوج نے فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔ کشمیر کے ساتھ ہماری گہری وابستگی ہے ۔ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا لہو گرے گا ۔کشمیریوں کے خلاف کسی قسم کی کوئی بات برداشت نہیں کریں گے ۔ پارٹی عہدیداران اور ٹکٹ ہولڈرز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم نے کشمیریوں کے ساتھ کئے گئے ہر وعدے کو پوارا کرنا ہے ۔ کشمیریوں خلاف کسی قسم کی کوئی بات برداشت نہیں کریں گے ۔ کشمیریوں کے خلاف غلط زبان استعمال کرنے سے ہمارا دل ٹوٹ جائے گا ۔ انہوں نے کہا پاک فوج ہماری ریڈ لائن ہے، کشمیر سے فوج کے خلاف اٹھنے والی آواز بھی ناقابل قبول ہو گی ۔ انہوں نے کہا معرکہ حق میں پاک فوج نے فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو پہلے ہی ایسا سبق دکھا دیا ہے جو وہ کبھی نہیں بھولے گا ۔ انہوں نے کہاکہ خطے میں قیام امن میں پاکستان کے کردار کو دنیا بھر میں سرہایا گیا اس امن کے قیام میں بھی فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کا انتہائی اہم کردار ہے ۔ ایران پر امریکی حملے کے وقت نیتن یاہو اور مودی ایک تھے ۔ ہمیں عالمی سازشوں کو سمجھنا چاہیے موجودہ صورتحال میں الفاظ کا چناو بھی سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بھی کبھی بھی ریاست کو سرنگوں نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک ماہ میں کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال پر مکمل توجہ مرکوز ہے ۔ تمام سیاسی جماعتیں گذشتہ کچھ وقت سے پیش آنے والے واقعات پےر اپنا مثبت کردار ادا کریں ۔ انہوں نے کہاکہ نہیں چاہتے کہ کشمیر میں دہشتگردی کی سیاست پروان چڑھے اس وقت مودی سندھ طاس معاہدے پر حملہ آور ہے وہ کشمیر کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے درپے ہے ۔ موجودہ حالت کا مقابلہ طاقت سے نہیں ہو سکتا ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔ ہمیں خیال رکھنا ہے کہ ان حالات کا دشمن فائدہ نہ اٹھائے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تجویز تھی کہ ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن بنایا جانا چاہیے اس حوالے سے میں نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے بھی بات کی ہے یہ کمیشن حقائق کے بارے میں آگاہی دے گا ۔ ہمیں کسی پرامن شہری کو دہشتگردوں کا ایجنٹ نہیں کہنا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ جب تک کشمیر کے حالت خراب رہیں گے کشمیر کاز کو نقصان پہنچتا رہے گا ۔ موجودہ کشیدہ صورتحال کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور شہریوں کے زخمی ہونے پر دل بہت رنجیدہ ہے ۔ انہوں نے کہا اسرائیل سمیت دوسری قوتیں اس وقت پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم کے مشکلات پیدا کرنے کے باوجود ہم نوے کی دہائی کی سیاست کا فروغ نہیں چاہتے بالکل اسی طرح ہم آزادکشمیر کے سیاسی حالت میں بھی بگاڑ نہیں چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کشمیر میں اگرچہ الیکشن کروانا مشکل ہے لیکن پھر بھی پیپلز پارٹی الیکشن کے حق میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران ایک وفاقی وزیر کے بیان کی وجہ سے آیا اب وفاق کو ہی اس بحران کا حل بھی نکالنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی بارہ سیٹیں ہونی چاہیے یا سولہ یا کم یہ فیصلہ کشمیریوں کو کرنا ہے یہ انکا حق ہے تاہم پیپلز پارٹی کشمیری مہاجرین کی نما ئندگی ختم کرنے کے حق میں نہیں ۔ انہوں نے کہا آزاد کشمیر الیکشن کے بعد ایک آئینی کمیشن بلوایا جا سکتا ہے ۔ آئینی ترمیم ڈنڈے کے زور پر نہیں بات چیت کے ذریعے ہی کی جا سکتی ہے ۔
فوج ہماری ریڈ لائن ہے پاک فوج کے خلاف اٹھنے والی آواز نا قابل قبول ہے، بلاول بھٹو
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل