سکھر(خ ن) کیرتھر کینال میں بلوچستان کے جائز حصے کے پانی کی مسلسل عدم فراہمی پر چیف انجینئر کینالز بلوچستان قربان علی جتوئی نے سکھر بیراج کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی اور چیف انجینئر سکھر بیراج سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے ہمراہ ایگزیکٹو انجینئر پٹ فیڈر کینال فرید احمد پندرانی اور ایگزیکٹو انجینئر کیرتھر کینال غلام محمد بادینی بھی موجود تھے، جبکہ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی بھی مسلسل رابطے میں رہے۔ اس موقع پر کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی نے بلوچستان کو کیرتھر کینال میں اس کے جائز حصے کا پانی فراہم کرنے کی یقین دیہانی کرائی، جبکہ سکھر بیراج مختیار احمد ابڑو نے چیف انجینئر کو پانی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ قربان علی جتوئی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کو اس وقت ارسا قوانین کے مطابق مقررہ 2400 کیوسک پانی نہیں دیا جا رہا، جس کے باعث کیرتھر کینال کے ہزاروں کاشتکار شدید مشکلات سے دوچار اور محکمہ آبپاشی شدید دباو¿ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ کی ہدایات پر دورہ کیا گیا ہے اور امید ہے کہ بلوچستان کو فوری طور پر اس کا مکمل حق دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شارٹ فال کے باوجود سندھ اور پنجاب کے آبپاشی حکام بلوچستان کو اس کا جائز حصہ دینے کے پابند ہیں کیونکہ بلوچستان کا پانی مجموعی حصے کے مقابلے میں نہایت کم ہے، اگر بروقت زرعی پانی فراہم نہ کیا گیا تو بلوچستان کا گرین بیلٹ شدید تباہی سے دوچار ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی ہدایات کے مطابق کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ اور پانی کی فراہمی کے لیے ہر ممکن عملی اقدامات جاری رہیں گے اور بلوچستان کے کسانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
چیف انجینئرکینالز بلوچستان قربان علی جتوئی کا سکھر بیراج کا ہنگامی دورہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل