امریکا اور اسرائیل کی دھمکی کے بعد ایران کے 2 جزیرے اور ایک شہر دھماکوں سے لرز اٹھا

واشنگٹن، تہران۔۔۔۔۔۔مشرق وسطی میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے اور ایران کی آبنائے ہرمز میں واقع اہم جزیرے قشم پر بھی دھماکے کی آواز سنی گئی۔امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے ایران پر حملوں کی دھمکی کے بعد تین مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے پر زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی۔دھماکے کی نوعیت اور اسباب فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکے تاہم گورنر کے دفتر نے بتایا ہے کہ دھماکا امریکی گولہ گرنے کے باعث ہوا۔ ایرانی حکام کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی۔خیال رہے کہ قشم جزیرہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جہاں ایرانی بحریہ اور پاسداران انقلاب کی اہم تنصیبات موجود ہیں۔ادھر ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق جزیرہ کیش پر بھی پانی اور بجلی کی ایک تنصیب کے قریب ایک گولہ پھٹ گیا ہے۔دوسری جانب ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے بھی دعویٰ کیا کہ صوبہ خوزستان کے شہر اندیمشک میں دھماکے کی اطلاع ملی ہے۔تاحال میڈیا رپورٹس میں ان دھماکوں کی وجہ یا نوعیت کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔قبل ازیں امریکی افواج نے ایران کے مغربی سرحدی علاقوں ماہ شہر اور آبادان پر تازہ حملے کیے ۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے بتایا کہ عراق اور کویت کی سرحد کے قریب واقع صوبہ خوزستان کے بندرگاہی شہر ماہشہر اور آبادان کو نشانہ بنایا گیا۔۔امریکا نے ایران پر مسلسل تیسری رات پانچ گھنٹوں تک حملے کیے جس کے جواب میں ایران نے بحرین اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید دو تین ہفتے جاری رہ سکتی ہیں، ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی افواج نے مقامی وقت کے مطابق ایران کے خلاف مسلسل تیسرے روز فضائی حملوں کا آغاز کیا۔سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حملے ایرانی افواج پر بھاری قیمت عائد کرنے اور ان کی اس صلاحیت کو کمزور بنانے کے لئے کئے جا رہے ہیں جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں شہریوں اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی اہداف پر نئے حملے مکمل کر لیے، ایران کے ساحلی دفاعی نظاموں، میزائل،ڈرون اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔سینٹکام کے مطابق ایران میں بوشہر، چاہ بہار ، جسک، کونارک ، ابو موسی اور بندر عباس کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے خلاف تازہ فوجی کارروائیاں پانچ گھنٹے تک جاری رہیں، جن میں امریکی افواج نے ایران کے مختلف فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔اس وقت مشرقِ وسطی میں پچاس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ، اردن میں فوجی اڈے، اماراتی ٹینکروں اور امریکی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔ایران نے کہا ہے کہ اس کی بحریہ نے امریکی دشمن کے بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی شروع کرے گا۔اردن کی فوج نے کہا ہے کہ ایرانی میزائل اردنی فضائی حدود میں داخل ہوئے، دفاعی نظام نے 4 میزائلوں کو ناکارہ بنایا، میزائل حملوں میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، مختلف مقامات پر میزائلوں کے ٹکڑے گرے، ملبہ ہٹانے کے لیے رائل انجینئرنگ کور تعینات کر دی گئی۔پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ بحرین میں تعینات امریکی ففتھ فلیٹ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے، حملے میں فوجی اڈے پر موجود ایندھن کے ذخائر کو آگ لگ گئی۔یہ بھی بتایا گیا کہ امریکی ریڈار سسٹمز بشمول پیٹریاٹ سسٹم اور کنٹرول سینٹر کو بھی تباہ کر دیا گیا، حملے ایران کی جاری جوابی فوجی مہم کا حصہ ہے، ایران کی جوابی کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی۔پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی کرنے والے دو ٹینکرز کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا گیا، ان ٹینکرز نے وارننگ کو نظر انداز کیا، نیویگیشن سسٹمز بند کر کے بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے آبنائے ہرمز میں جارح دشمن کے ساتھ تعاون آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے میں تاخیر کا باعث بنے گا اور عالمی توانائی بحران پیدا کرے گا۔متحدہ عرب امارات نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے خلیج فارس میں دو بحری جہازوں پر حملہ کیا ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ دو آئل ٹینکر، مومباسا اور باہیا، آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے میں اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں ایران کے دو کروز میزائلوں کا نشانہ بنے ہیں۔سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر مومباسا کے عملے کا ایک رکن، جو انڈین شہری تھا، ہلاک ہو گیا جبکہ مزید آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے، زخمی ہونے والے چھ افراد کا تعلق انڈیا اور دو کا یوکرین سے ہے۔۔۔۔۔۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ سے آبنائے ہرمز کا محافظ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس لینے میں منصفانہ رویہ اختیار کرے گا۔ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان امریکی صدر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کریں گے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تمام کھیپوں پر 20 فیصد ٹیرف عائد کریں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں