جماعت اسلامی کی سیاست کا اقتدار نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہے،ڈاکٹر حمیرا طارق

لاہور۔۔۔۔۔۔سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے منصورہ ہسپتال میں ڈاکٹر فوزیہ اور ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے قائم کردہ فری میموگرافی ڈائیگناسٹک سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے خواتین کی صحت کے لیے اس مثالی فلاحی منصوبے کو سراہتے ہوئے اسے جماعت اسلامی کے خدمتِ خلق کے عملی وڑن کا روشن مظہر قرار دیا۔ بعد ازاں انہوں نے بحریہ ٹاو¿ن میں منعقدہ پی پی 165 اور پی پی 166 کے فہم القرآن کورس کی مربیات اور شرکائ کی مرکزی نظم کے ساتھ خصوصی نشست میں شرکت کی اور قرآن فہمی، دعوتِ دین اور معاشرتی اصلاح کے موضوع پر خطاب کیا۔منصورہ ہسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ جماعت اسلامی کی سیاست کا مرکز اقتدار نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہے۔ صحت، تعلیم اور فلاحِ عامہ کے میدان میں جماعت اسلامی کے منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ خدمتِ خلق ہی ہمارے دین کی حقیقی روح ہے۔انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص ہزاروں خواتین کی زندگیاں بچا سکتی ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ اور ان کے اہلِ خانہ کی جانب سے قائم کیا گیا یہ فری میموگرافی ڈائیگناسٹک سینٹر ایک عظیم صدق? جاریہ اور معاشرے کے لیے قابلِ تقلید مثال ہے۔ ایسے منصوبے نہ صرف بیماریوں کی بروقت تشخیص میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بلکہ خواتین میں صحت کے حوالے سے شعور بھی بیدار کرتے ہیں۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ ایسے فلاحی منصوبوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرتی رہے گی جو انسانی جانوں کے تحفظ، معاشرتی خیر اور اللہ کی رضا کے لیے قائم کیے جائیں۔ خدمتِ خلق کا یہی جذبہ ایک مضبوط، باوقار اور رحم دل معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹریز ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ثمینہ سعید، ڈاکٹر امت اللہ زریں ، ڈاکٹر اختر، ناظمہ لاہور عظمیٰ عمران، ناظمہ وسطی پنجاب نازیہ توحید سمیت دیگر ذمہ داران بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔ انہوں نے بھی خواتین کی بروقت تشخیص، صحتِ عامہ کے فروغ اور انسانی خدمت کے اس مثالی منصوبے کو بے حد سراہتے ہوئے اسے معاشرے کے لیے امید اور خیر کا قابلِ تقلید نمونہ قرار دیا۔بعد ازاں بحریہ ٹاو¿ن کے Alure Event Hall میں پی پی 165 اور پی پی 166 کے فہم القرآن کورس کی مربیات اور شرکاءکی مرکزی نظم کے ساتھ خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے کورس کے اغراض و مقاصد پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے شرکاءکے سوالات کے جوابات دیے۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ قرآن مجید صرف پڑھنے کی نہیں بلکہ سمجھنے، اپنانے اور معاشرے میں نافذ کرنے کی کتاب ہے۔ آج امتِ مسلمہ کو درپیش اخلاقی، خاندانی اور سماجی بحرانوں کا حقیقی حل قرآن کی تعلیمات سے وابستگی میں پوشیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ فہمِ قرآن انسان کے کردار، خاندان اور معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ جب خواتین قرآن کو سمجھ کر اپنی زندگیوں کا حصہ بناتی ہیں تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں اور ایک صالح معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ فہم القرآن کورس کے اثرات سے متاثر ہو کر متعدد شرکائ نے جماعت اسلامی کے نظم کے تحت بطور کارکن خدمات انجام دینے کی خواہش ظاہر کی، جسے انہوں نے دعوتِ دین کی کامیابی اور شعوری بیداری کی خوش آئند علامت قرار دیا۔۔ بعد ازاں مربیات کے ساتھ ایک خصوصی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں کورس کے دوران پیش آنے والے تجربات، مسائل اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔ ڈاکٹر حمیرا طارق نے مربیات کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کا پیغام گھروں تک پہنچانے والی مربیات دراصل معاشرے کی فکری اور اخلاقی تعمیر کی معمار ہیں، اور ان کی یہ محنت اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین اجر کی مستحق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں