کوئٹہ:سانحہ ہنہ اوڑک کے خلاف احتجاج میں مزید شدت آ گئی ہے۔ شہدا کے ورثا کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری ہے جبکہ مطالبات کی منظوری تک شہدا کی تدفین سے انکار برقرار رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب احتجاج کو صوبہ بھر تک وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے شہدا کے ورثا نے آج دوپہر ایک بجے سے کوئٹہ اور اندرونِ بلوچستان کی اہم قومی شاہراہوں اور داخلی راستوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔شہدا ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار نسیم پانیزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے تاحال مذاکرات کے لیے کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں کی گئی، جس کے باعث احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوپہر ایک بجے بلیلی کے مقام پر کوئٹہ کے تمام اہم انٹری پوائنٹس بند کیے جائیں گے، جبکہ زیارت کراس کے مقام پر قومی شاہراہ پہلے ہی بند ہے۔انہوں نے کہا کہ پشین، چمن اور دیگر اضلاع کے اہم داخلی راستوں کو بھی بند کیا جائے گا تاکہ حکومت کو مطالبات کی منظوری پر مجبور کیا جا سکے۔ سردار نسیم پانیزئی کے مطابق بلوچ بیلٹ کے قبائلی عمائدین سے بھی رابطے جاری ہیں تاکہ وہاں بھی قومی شاہراہوں کو بند کرکے احتجاج میں بھرپور شرکت یقینی بنائی جا سکے۔دوسری جانب سانحہ ہنہ اوڑک کے خلاف کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کی کال پر وکلا کی مکمل ہڑتال بھی جاری رہی، جس کے باعث عدالتوں میں معمول کی عدالتی سرگرمیاں شدید متاثر رہیں۔ وکلا رہنماں نے صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور لاقانونیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کو فوری اور مثر اقدامات کرنا ہوں گے۔شہدا کے ورثا نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور ذمہ داروں کے خلاف مثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی، دھرنا، احتجاج اور شاہراہوں کی بندش کا سلسلہ جاری رہے گا۔
سانحہ ہنہ اوڑک، احتجاج میں شدت، اندرونِ بلوچستان کی اہم شاہراہیں بند کرنے کا اعلان
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل