قابلِ ٹیکس زرعی اراضی کی درست اور شفاف تشخیص کو یقینی بنایا جائے،محمد حسیب شجاع
لورالائی۔۔۔۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی کیپٹن (ر) محمد حسیب شجاع کی زیرِ صدارت زراعتی انکم ٹیکس (AIT) اور دیگر اہم ریونیو امور کے حوالے سے چھٹا جائزہ اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلداروں، نائب تحصیلداروں، گرداوروں اور متعلقہ ریونیو افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران زراعتی انکم ٹیکس کی تشخیص، وصولیوں کی موجودہ صورتحال، مقررہ مالی اہداف کے حصول، انتقالات (Mutations)، فردات کے اجرا، اراضی ریکارڈ کی درستگی، سرکاری واجبات کی وصولی، تجاوزات کے خاتمے اور زیرِ التوائ ریونیو مقدمات کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مختلف تحصیلوں کے افسران نے اپنے اپنے دائرہ کار سے متعلق کارکردگی رپورٹس پیش کیں جبکہ درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریونیو نظام کی بہتری اور سرکاری محصولات کی بروقت وصولی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ قابلِ ٹیکس زرعی اراضی کی درست اور شفاف تشخیص کو یقینی بنایا جائے تاکہ حکومتی ریونیو میں اضافہ ہو اور ٹیکس نظام پر عوامی اعتماد مزید مستحکم ہو۔ انہوں نے ریونیو افسران کو تاکید کی کہ وہ وصولیوں کے عمل میں تیزی لائیں اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے فیلڈ سطح پر اپنی سرگرمیوں کو مزید مو¿ثر بنائیں۔اجلاس میں حد بندی (Demarcation) کے مقدمات، سرکاری اراضی کے تحفظ، قبضہ مافیا کے خلاف جاری کارروائیوں، زیرِ التواء عدالتی مقدمات کے جلد تصفیے اور بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کی نشاندہی اور ان کے خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے اور اس سلسلے میں باقاعدہ نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو ریونیو خدمات کی فراہمی میں آسانی، شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ ریونیو افسران عوامی شکایات کے بروقت ازالے، انتقالات اور دیگر معاملات کے فوری حل اور سائلین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ اس مقصد کے لیے عوامی سہولت مراکز اور کھلی کچہریوں کے انعقاد کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ عوام کو درپیش مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکیں اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام تحصیلوں میں ریونیو ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا، جبکہ فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے باقاعدہ کارکردگی جائزہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ ریونیو امور میں غفلت، غیر ضروری تاخیر یا بدعنوانی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام ریونیو افسران کو ہدایت کی کہ وہ حکومتی پالیسیوں اور بورڈ آف ریونیو کی ہدایات کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے محصولات میں اضافے، اراضی ریکارڈ کی بہتری اور عوامی خدمت کے معیار کو مزید بلند کرنے کے لیے بھرپور اقدامات یقینی بنائیں۔