محمد اکبر شالوانی بگٹی کی بازیابی کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں، اہل خانہ
نصیر آباد( محمد یونس عمرانی)ڈیرہ مراد جمالی سے 4 جون سے لاپتہ ہونے والے شوران کالج کچھی کے طالبعلم محمد اکبر شالوانی بگٹی کی بحفاظت بازیابی کے لیے اہل خانہ نے قرآن پاک اٹھا کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام سے مدد کی اپیل کی ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لاپتہ طالبعلم کے چچا عبدالحفیظ شالوانی بگٹی، والد مہردل شالوانی بگٹی، والدہ اور دیگر اہل خانہ نے کہا کہ محمد اکبر شالوانی بگٹی 4 جون سے لاپتہ ہیں اور تاحال ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی، جس کے باعث پورا خاندان شدید ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا ہےانہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، آئی جی بلوچستان، ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قبائلی عمائدین سے مطالبہ کیا کہ محمد اکبر شالوانی بگٹی کی بازیابی کے لیے فوری اور مو¿ثر اقدامات کیے جائیں تاکہ اہل خانہ کی بے چینی کا خاتمہ ہو سکےاہل خانہ کا کہنا تھا کہ ان کی کسی تنظیم، گروہ یا فرد کے ساتھ کوئی قبائلی دشمنی یا تنازع موجود نہیں ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ اگر کسی شخص کے پاس محمد اکبر شالوانی بگٹی کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر متعلقہ اداروں یا اہل خانہ تک پہنچائے تاکہ طالبعلم کی بحفاظت واپسی ممکن بنائی جا سکے اس موقع پر اہل خانہ نے قرآن پاک کو گواہ بنا کر اپنے بیٹے کی سلامتی اور جلد بازیابی کے لیے تمام بااختیار حلقوں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیارے کی واپسی کے منتظر ہیں اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فوری اقدامات کے خواہاں ہیں۔