ایران امریکہ مذاکرات کا پہلا دور مکمل، 60روز میں حتمی معاہدے کے روڈ میپ پر اتفاق

ایران امریکہ مذاکرات کا پہلا دور مکمل، 60روز میں حتمی معاہدے کے روڈ میپ پر اتفاق

برگن اسٹاک /اسلام آباد/تہران/واشنگٹن۔۔۔۔۔ایران اور امریکہ کے اعلی حکام کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا اور فریقین کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات رواں ہفتے برگن سٹاخ میں جاری رہیں گے۔معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے قطر اور پاکستان نے چند گھنٹے قبل مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے پہلے اجلاس کا اختتام سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہوا، جس میں ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے دو ممالک قطر اور پاکستان کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔اعلامیے کے مطابق سربراہی اجلاس ایک مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوا، جبکہ مزید تکنیکی مذاکرات کے لیے ایک طریقہ کار کے قیام سمیت حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔اعلامیے کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر فریقین نے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے، جو ثالثی کے عمل کے لیے سیاسی نگرانی فراہم کرے گی۔پاکستان اور قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مرکزی مذاکرات کار باقاعدگی سے اس اعلیٰ سطح کی کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے اور جوہری امور، پابندیوں اور مفاہمتی یادداشت کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کےلئے نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے، نیز دیگر امور پر بھی کام کریں گے۔اعلامیے کے مطابق اعلیٰ سطح کی کمیٹی نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کےلئے ایک روڈمیپ پر اتفاق کیا ہے، جو مزید تکنیکی مذاکرات کے فوری آغاز کی بنیاد فراہم کرے گا۔اس کے علاوہ مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف پانچ میں بیان کردہ مدت کے لیے فریقین کے درمیان ایک مواصلاتی رابطہ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے اور واقعات و غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔واضح رہے کہ امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف نمبر پانچ میں درج ہے کہ اس یادداشت پر دستخط کے بعد ایران 60 دن تک بغیر کسی فیس کے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کےلئے انتظامات کرے گاجبکہ آبنائے ہرمز میں بحری خدمات کے انتظامات کے مستقبل کے حوالے سے عمان کے ساتھ مکالمہ کرے گا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ فریقین نے ڈی کنفلیکشن سیل (تنازع کم کرنے والا سیل)بنانے پر اتفاق کیا ہے جو فریقین کے درمیان، لبنان کے ساتھ اور ثالثوں کی معاونت سے قائم کیا جائےگا تاکہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔اعلامیے کے مطابق تمام امور پر تکنیکی مذاکرات رواں ہفتے کے دوران برگن سٹاخ میں جاری رہیں گے، اس دوران ثالثی کرنے والے فریق مذاکرات کو تعمیری ماحول میں جاری رکھنے کےلئے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے، تاکہ حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹ ےک مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور امریکا کی جانب سے ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری کر دیے گئے۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں لبنان جنگ کے خاتمے کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکا مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے لیے تیل اور پیٹروکیمیکل کی برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔عباس عراقچی نے بتایا کہ ناکہ بندی اٹھا لی گئی ہے اور کچھ منجمد اثاثے جاری کر دیے گئے ہیں اس سے پہلے ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا کہ حتمی معاہدے کے آغاز کے لیے مذاکرات کی بنیاد رکھنے پر بات چیت کی گئی،بات چیت میں دوسرے فریق کی ذمہ داریوں پر عملدرآمد سے متعلق اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔ دریںاثناءایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں مذاکراتی وفد کا کام مکمل ہوگیا ہے، تکنیکی ٹیمیں اپنا کام جاری رکھیں گی۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اعلامیہ قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری کیا جائے گا۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کامیکانزم ترتیب دینے پر اتفاق کیا گیا۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق حتمی معاہدے کے آغاز کے لیے مذاکرات کی بنیاد رکھنے پر بات چیت کی گئی، بات چیت میں دوسرے فریق کی ذمہ داریوں پر عملدرآمد سے متعلق اچھی پیش رفت ہوئی۔ دریں اثناءامریکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ اگر ایران کی قیادت علاقائی عدم استحکام کا باعث بننا اور نیوکلیئر پروگرام چھوڑ دے تو پھر امریکا ایران کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات بنائے گا۔جے ڈی وینس نے کہاکہ ہم سفارتکاری کے ذریعے مشرق وسطی میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں، ایسا مستقبل دیکھ رہے ہیں جہاں سب کے لیے امن و خوشحالی ہوگی۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایرانی نیوکلیئر پروگرام کے خاتمے کے بعد اب ہمیں آگے بڑھنا ہے ، اسلام آباد ڈائیلاگ سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایران اور امریکا نے اعلی سطح پر مذاکرات کیے ہوں۔ بعد ازاں سوئٹزرلینڈ نے مشرقِ وسطی کے تنازع کے تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے قطر اور پاکستان کی جانب سے 22 جون کو جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کا خیرمقدم کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں