
مفاہمتی معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد امریکا اور ایران کے نمائندے پاکستان، قطر اور دیگر متعلقہ ممالک کے اعلی حکام کے ساتھ آج (جمعہ کو)برگن اسٹاک سوئٹزر لینڈ میں ملاقات کریں گے۔سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی معاہدے پر دستخط کے بعد اس پر عمل درآمد سے متعلق ابتدائی مذاکرات سوئٹزر لینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہوں گے۔سوئس وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی اور ایرانی نمائندے ثالثی کرنے والے ممالک پاکستان اور قطر سمیت دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں گے۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پر دستخط ہو گئے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد ایم او یو فوری طور پر نافذ العمل ہو گا، امریکا بحری ناکہ بندی ختم،ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا اور امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ بطور ثالث میں نے بھی اس معاہدے کی توثیق کی ہے، سوئٹزر لینڈ میں 19 جون کو تاریخی تقریب منعقد ہو گی، انہوں نے کہا کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز 19 جون سے ہو گا۔وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر پزشکیان کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد معاہدہ خطے میں مشترکہ خوشحالی کی بنیاد بنے گا۔شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹوئٹ میں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی سفارتکاری نے ممکنہ بڑے تصادم کو روکا، وزیراعظم نے امریکی مذاکراتی ٹیم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک محنت بے لوث خدمات اور فیصلہ کن کردار سے تاریخی پیشرفت ہوئی۔۔۔۔۔۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے۔وزیرِ اعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط پہلے ہی موجود ہیں۔واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر مقررہ وقت سے پہلے ہی دستخط کر دیے ہیں اور یہ معاہدہ اب نافذ العمل ہو چکا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں دستخط کیے۔دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے صدر مسعود پزشکیان کی تصاویر جاری کی گئی ہیں جن میں انہیں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔۔۔۔۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے” اسلام آباد مفاہمتی یاداشت“ پر بطور ثالث دستخط کردیئے۔وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان کے مطابق” اسلام آباد مفاہمتی یاداشت“ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔ قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے مابین ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت “ پر دستخطوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فوری نافذ العمل اس ایم او یو کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکا فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ وزیر اعظم نے ”ایکس “پر اپنے پیغام میں کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے انتہائی مسرت اور اعزاز حاصل ہو رہا ہے کہ آج ریاستہائے متحدہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان تاریخی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر الیکٹرانک طور پر دستخط کر دیئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ یادداشت پر دونوں ممالک کے معزز صدور نے دستخط کیے ہیں جبکہ بطور ثالث انہوں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ اس معاہدے پر متعلقہ حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر دستخط اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ دونوں فریق تنازع کے سفارتی حل کے لیے پرعزم ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ” اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور اس کے پہلے مرحلے کے طور پر اسلامی جمہوریہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ ریاستہائے متحدہ امریکا فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں ریاستہائے متحدہ امریکا کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو اس ایم او یو کے طے پانے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ ان کی سفارت کاری سے غیر متزلزل وابستگی اور تنازعات کے پ±رامن حل کو ترجیح دینے کی پالیسی نے ایک بار پھر ایسے بحران کے خاتمے میں مدد دی جو خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی انتھک محنت، لگن اور قابل قدر خدمات کو بھی سراہتا ہوں، جنہوں نے اس تاریخی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کے دانشمندانہ فیصلوں، دور اندیشی اور مدبرانہ قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے امن کے مقصد کو اپناتے ہوئے قابلِ قدر قیادت کا مظاہرہ کیا۔ وزیر اعظم نے ایرانی مذاکراتی ٹیم، بشمول محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی کاوشوں کو بھی سراہا، جن کے صبر، استقامت اور تعمیری مکالمے سے وابستگی نے اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے خاص طور پر ریاست قطر کی قیادت کی مخلصانہ کوششوں اور مثبت کردار کا بھی اعتراف کیا جنہوں نے اس پیش رفت کے حصول میں اہم معاونت فراہم کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں مملکت سعودی عرب، جمہوریہ ترکیہ اور عرب جمہوریہ مصر کی قیادت کے ناگزیر کردار اور گرانقدر خدمات کو بھی انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وزیر اعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک کاوشیں، بے لوث وابستگی اور کلیدی کردار اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے اور امن و علاقائی استحکام کے فروغ میں نہایت اہم ثابت ہوئے۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ مفاہمتی یادداشت پورے خطے میں باہمی افہام و تفہیم، احترامِ متقابل اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار بنیاد ثابت ہو۔۔۔۔۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہوگئے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ معاہدے پر امریکا ایران کے صدور نے دستخط کیے۔ امریکا ایران معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔شہباز شریف نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا اور امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ بطور ثالث امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کی توثیق کرتا ہوں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 19جون کو سوئٹزر لینڈ میں تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔۔۔۔۔امریکا نے ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے نکات جاری کر دیے، اس مفاہمتی یادداشت کا ٹائٹل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت رکھا گیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے ورسیلز فرانس میں صدر میکرون کے ساتھ عشائیے کے موقع پر ایم او یو پر دستخط کیے اور صحافیوں کو بتایا کہ ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ۔ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی کہ مفاہمتی یادداشت کے متن پر ایران اور امریکا کے صدور نے الیکٹرانک دستخط کیے ہیں۔ امریکا کے ایک سینئر عہدیدار نے ایران کے ساتھ مجوزہ 14 نکاتی جنگ بندی یادداشتِ مفاہمت کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔مفاہمتی یادداشت کے پہلے نکتے کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل فوجی کارروائیاں بند کریں گے، فریقین ایک دوسرے کے خلاف دھمکی دینے یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے، لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔امریکی موقف ہے کہ معاہدے کے تحت فوری اور مستقل جنگ بندی، لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا خاتمہ اور ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔دستاویز میں 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کی شق شامل ہے جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری پابندیاں ختم کرے گا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال کی جائے گی۔معاہدے کے مطابق امریکا ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالرز کے منصوبے کی حمایت کرے گا جبکہ ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کے لیے فوری رعایتیں بھی دی جائیں گی۔دستاویز میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جبکہ افزودہ جوہری مواد اور دیگر جوہری معاملات پر آئندہ مذاکرات میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔امریکا نے ایران کے منجمد اثاثے قابلِ استعمال بنانے، نئی پابندیاں نہ لگانے اور موجودہ صورتِ حال برقرار رکھنے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔یادداشتِ مفاہمت میں تمام پابندیوں کے خاتمے، عمل درآمد کی نگرانی کے لیے مشترکہ نظام کے قیام اور حتمی معاہدے کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی لازمی قرارداد کے ذریعے کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ایرانی حکام نے تاحال اس دستاویز یا اس کے متن کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے
ٹرمپ اور اماراتی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، مشرق وسطیٰ صورتحال پر گفتگو
آئی ایم ایف شرط، جون 2027 تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقرر
پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،وزیراعلی
ٹرمپ کاایران جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کرنے پر غور
پیٹرولیم لیوی میں کمی کیلئے حکومت ،جماعت اسلامی کا کمیٹیاں قائم کرنے پر اتفاق
ژوب بائی پاس کیلئے فوری فنڈز کا بندوست اس امر کا مظہر ہے کہ وفاقی سطح پر بلوچستان کی بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کو اہمیت دی جا رہی ہے، گورنر
وزیراعظم کا نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک دیا
سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی
پاکستان نے یورو بانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کر لیے: وزیر خزانہ
جماعت اسلامی کا ملک گیر ہڑتال کا اعلان، مختلف شہروں میں مارکیٹیں بند