مالی سال 2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے،وزیراعلیٰ سندھ

مالی سال 2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے،وزیراعلیٰ سندھ
ابتدا میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کی تجویز زیر غور آئی، تاہم صوبوں نے اپنے آئینی حقوق کا دفاع کیا،مراد علی شاہ
چاروں صوبوں نے قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے پیش نظر وفاق کو گرانٹ دینے پر اتفاق کیا،وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے، ابتدا میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کی تجویز زیر غور آئی، تاہم صوبوں نے اپنے آئینی حقوق کا دفاع کیا،چاروں صوبوں نے قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے پیش نظر وفاق کو گرانٹ دینے پر اتفاق کیاہے،وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے بعد تفصیلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبے کی مالی صورتحال، ترقیاتی ترجیحات، وفاق سے تعلقات، زرعی و توانائی منصوبوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے دفاع کے لیے مالی تعاون فراہم کیا اور آئین کی متعلقہ شق پہلی مرتبہ استعمال کی گئی۔ انہوں نے اس آئینی شق کے شامل کیے جانے پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف 15.264 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے جبکہ صوبوں کو 13.35 ٹریلین روپے کی وصولیوں پر حصہ ملے گا۔ ان کے مطابق اضافی وصولیوں سے بھی صوبوں کو فائدہ ہوگا اور امید ہے کہ اس سال ایف بی آر اپنا ہدف حاصل کرے گا۔مراد علی شاہ کے مطابق سندھ کو وفاقی محصولات میں مئی تک 441 ارب روپے جبکہ صوبائی وصولیوں میں 52 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ مجموعی طور پر بجٹ میں تقریبا 300 ارب روپے کے خسارے کا تخمینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق سے سندھ کو 2263 ارب روپے ملنے ہیں جبکہ صوبائی محصولات کا ہدف 456 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ سب سے بڑا خرچ تنخواہوں اور پنشن پر ہے جبکہ 2023 اور 2025 کے ایڈہاک الاو¿نس بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیے گئے ہیں۔ کم از کم اجرت 43 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ مختلف اسپتالوں اور اداروں کے لیے 686 ارب روپے کی گرانٹس مختص کی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ فنڈز کی محدود دستیابی کے باعث ترقیاتی پروگرام متاثر ہوا اور سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) گزشتہ سال کے 1018 ارب روپے سے کم ہو کر 720 ارب روپے رہ گیا۔ حکومت نے رواں سال کوئی نئی اسکیم شامل نہیں کی اور 2056 جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل پر توجہ دی جائے گی۔مراد علی شاہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کو سندھ کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے 109 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کیٹی بندر پورٹ منصوبہ بھی اسی ماڈل کے تحت تعمیر کیا جائے گا اور اس سلسلے میں چین اور متعلقہ کمپنیوں سے رابطے کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اور گرین انرجی ڈیٹا سینٹر کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی اضافی سولر توانائی عالمی کمپنیوں کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ متوسط طبقے کے لیے سستے سولر قرضوں کی اسکیم بھی متعارف کرائی جائے گی۔زرعی شعبے کے حوالے سے وزیراعلی نے کہا کہ کسانوں کی معاونت کے نتیجے میں گندم کی پیداوار 3.5 ملین ٹن سے بڑھ کر 4.9 ملین ٹن ہوگئی ہے۔ حکومت ایگری کلچرل کلیکٹوز قانون متعارف کرا رہی ہے تاکہ چھوٹے کسان مشترکہ طور پر جدید زرعی سہولیات حاصل کرسکیں۔پانی کے بحران پر اظہار تشویش کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ صوبے کو اس وقت 30 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے جبکہ پنجاب میں یہ شرح 11 فیصد ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ارسا کو اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی اور اس معاملے پر میڈیا کو بھی آواز اٹھانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ منصوبے میں تاخیر کی وجہ ٹھیکیدار کی نااہلی تھی تاہم جولائی کے آخر تک ٹریفک بحال کر دی جائے گی۔ ریڈ لائن منصوبے اور کراچی سرکلر ریلوے کے لیے وفاقی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔تھر میں ترقیاتی کاموں، اسپتالوں، پانی کی فراہمی اور توانائی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ آج کے تھر اور ماضی کے تھر میں واضح فرق ہے تاہم مزید کام کی ضرورت موجود ہے۔کرپشن کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ جہاں بھی بے ضابطگی سامنے آتی ہے کارروائی کی جاتی ہے، کئی ٹھیکے منسوخ کیے گئے اور ریکوریاں بھی ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ چند عناصر کو پورے نظام پر حاوی نہیں ہونے دیا جائے گا۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ حکومت بڑے منصوبوں، نجی سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ عوام کا سرکاری ملازمتوں پر انحصار کم ہو اور صوبہ معاشی طور پر مضبوط ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں