پاکستان خطے میں امن کےلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے ، ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت کی امیدہے،،ترجمان طاہر اندرابی

اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ بڑا واضح ہے، ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا، یہ معاہدہ خالصتا دفاعی نوعیت کا اور اس کامقصد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے، یہ محض 3 ممالک تک محدود نہیں ، قومی قیادت یا ریاستی اداروں کے درمیان مکہ معاہدہ کے حوالے سے اختلاف کے تاثر کو یکسر مسترد کرتا ہوں،باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے افسوسناک ہیں، کمرشل جہازوں پر حملوں اور آزادانہ بحری راستوں میں رکاوٹ ڈالنا قابل مذمت ہے، سعودی قیادت میں بحری اتحاد کے معاہدے کو آپریشنل بنانے کیلئے تیار ہیں۔ ان خیالات کااظہار ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کیا۔ترجمان نے کہا کہ حملے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی اور تحفظ کےلئے خطرہ ہیں۔ پاکستان صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے ، ہم بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ جہاز رانی کی حمایت کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ بحیرہ احمر میں جہاز پر حملے میں 3 پاکستانی جاں بحق ہوئے، جن کی میتیں پاکستان لانے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی قیادت میں بحری سلامتی کے حوالے سے قائم اتحاد کا حصہ ہے اور بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ جہاز رانی یقینی بنانے کے لئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار ہے۔مکہ معاہدے سے متعلق ترجمان نے کہا کہ 7 اگست کو ہونے والا مکہ سمٹ اہمیت کا حامل رہا، پاکستان نے مکہ معاہدے کے لیے اہم ترین کردار ادا کیا، مکہ معاہدہ تینوں ممالک کے برادرانہ تعلقات میں اہم پیشرفت ہے۔ معاہدہ بالکل واضح ہے ، معاہدے کے مطابق ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ مکہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ قومی قیادت یا ریاستی اداروں کے درمیان مکہ معاہدہ کے حوالے سے اختلاف کے تاثر کو یکسر مسترد کرتا ہوں۔ترجمان نے بتایا کہ مکہ معاہدہ امن و سلامتی کے حوالے سے محض 3 ممالک تک محدود نہیں، معاہدہ تینوں ممالک کے برادرانہ تعلقات میں اہم پیشرفت ہے ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کےلئے اہم ہے، پاکستان نے معاہدے کےلئے اہم کردار ادا کیا، پاکستان خطے میں امن کےلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ اوپن ہے تاہم اس میں نئے ممالک کی شمولیت کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا، چین اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کے فورمز کھلے ہیں، پاکستان میری ٹائم سکیورٹی معاہدے کا حصہ ہے اور اس پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے معاہدے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے، وزیراعظم نے بطور لیڈر آف دی ہاﺅ س معاہدے پر دستخط کیے، کسی متعلقہ ادارے کو اعتماد میں نہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے مکہ معاہدے پر ریاستی اداروں کے درمیان اختلاف رائے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تاثر کی سختی سے نفی کرتے ہیں ۔ترجمان نے کہا کہپاکستان کے اداروں میں اختلافات سے متعلق پروپیگنڈا ایک ہمسایہ ملک کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کے طریقہ کار میں معاہدوں پر دستخط کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے۔ وزیراعظم نے معاہدے پر دستخط کیے جو قائدِ ایوان ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 10 اگست کو واضح کیا تھا کہ مکہ معاہدہ وزیراعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز اور دفتر خارجہ کی حمایت سے کیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے یقین دلایا کہ معاہدے سے قبل، اس کے بعد اور فی الوقت تمام قانونی مراحل پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد ایم او یو کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن واضح ہے، پاکستان امن کیلئے پرامید ہے۔ ڈیڈ لائن پر عمل نہ ہونے کے بعد بھی بات چیت کی توقع ہے۔ پاکستان ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں، تاہم انہیں دورے کے دوران کسی خصوصی پیغام کا علم نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی ہے۔ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات فریقین کی رضامندی سے کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بارے میں پاکستان اپنا موقف واضح کر چکا ہے، اگرچہ اس پر مکمل عمل درآمد شاید نہ ہو سکا ہو، تاہم امن کے لیے بنیادی فریم ورک اب بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ہی ہے۔طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں فریقین کی رضامندی سے توسیع کی جا سکتی ہے، جس سے مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، امریکا سعودی عرب سول نیوکلیئر ڈیل کا جائزہ لے رہا ہے، سول نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے سعودی عرب کے حق کا احترام کرتے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ بحرین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کا وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیرمقدم کیا ہے، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہے۔انہوں نے پاک ایران سرحد کے حوالے سے کہا کہ پاکستان موثر بارڈر کنٹرول یقینی بناتا ہے اور ایران کے ساتھ بھی یہی پالیسی ہے۔ ایرانی صدر کی جانب سے ایران امریکا جنگ کے دوران پاک ایران سرحد سے کسی شرپسند کو داخل نہ ہونے دینے کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس پر ایرانی صدر کے مشکور ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران میں فوجی قیادت کی تبدیلی اس کا اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کی ٹرانسپیرنسی رپورٹ سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہے اور اس حوالے سے اصلاحاتی ایجنڈا پہلے ہی جاری کیا جاچکا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے 3 جائزے مکمل ہوچکے ہیں۔ پاکستان مالیاتی شفافیت کے حوالے سے بین الاقوامی معیار پر عمل پیرا ہے، آئی ایم ایف پروگرام اصلاحات اور شفافیت کے حوالے سے ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر کی صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو آزاد کشمیر پر تبصرے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم کا بیان غزہ بورڈ آف پیس کے فیصلے کے لیے دھچکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں