الٹی گنتی گننے والوں کی گنتی جلد ٹھیک ہو جائیگی‘ رانا ثنائ

باغ : وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کشمیری عوام نے دو انتخابی مراحل میں مسلم لیگ (ن) پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، باغ اور پونچھ ڈویژن کے تیسرے مرحلے میں بھی پارٹی کامیاب ہوگی اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔الٹی گنتی گننے والوں کی گنتی جلد ٹھیک ہو جائے گی ۔ باغ میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کشمیری عوام صرف پاکستان سے محبت نہیں کرتے بلکہ پورا پاکستان انہیں اپنا مالک سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے کے نعرے کے ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہئے کہ پاکستان صرف کشمیریوں کا نہیں، کشمیری بھی پاکستان کے مالک ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، فیصل آباد، لاہور اور ملتان سمیت پاکستان کے ہر حصے میں کشمیریوں کو دیگر پاکستانیوں کے برابر حقوق، عزت اور مقام حاصل ہے۔ کشمیری مختلف شعبوں میں کاروبار اور ملازمتیں کر رہے ہیں جبکہ پاک فوج میں بھی کشمیریوں کی شمولیت آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کشمیریوں نے پاکستان اور کشمیر کے دفاع کے لئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ معرکہ حق میں بھی کشمیری عوام اور پاک فوج پاکستان کے دفاع میں ایک ساتھ کھڑے رہے۔ تحریک آزادی جموں و کشمیر ہمارے لئے تحریک تکمیل پاکستان ہے، پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور کشمیر پاکستان ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان اس مضبوط رشتے کو دنیا کی کوئی طاقت کمزور نہیںکرسکتی۔ باغ اور پونچھ کے عوام کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی حمایت اس وابستگی کا ایک اور اظہار ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دو مراحل کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی اسمبلی میں 24 منتخب ارکان کی پوزیشن ہے، جبکہ مخصوص نشستیں ملنے کے بعد پارٹی کی مجموعی تعداد 30 تک پہنچ جائے گی۔ دو تہائی اکثریت کے لئے مزید چھ ارکان درکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ 10 اگست کو باغ اور پونچھ ڈویژن سے مزید 4 مسلم لیگ (ن) کے ارکان منتخب ہوئے تو پارٹی دو تہائی اکثریت کے مزید قریب پہنچ جائے گی، جبکہ پونچھ ڈویژن کی باقی نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کی امید ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے بھی باغ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حویلی کے بعد باغ میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت نے ثابت کردیا ہے کہ کشمیری عوام مسلم لیگ (ن) اور قائد نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جلسے میں موجود نہیں، تاہم ان کے کارکنوں اور سپاہیوں نے ان کی غیر موجودگی میں بھی عوامی حمایت ثابت کردی ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں صدر اور وزیراعظم سمیت اہم حکومتی عہدے پیپلز پارٹی کے پاس رہے ہیں، اس لئے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کا الزام سمجھ سے بالاتر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں