کراچی(اسٹاف رپورٹر) وومن انٹر پنیور فورم کی جانب سے کراچی میں خواتین کی قیادت، کاروباری ترقی اور پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینے کے مقصد سے “فاﺅنڈنگ ممبرز میٹ اپ” اور پاکستان کے 79 ویں جشن آزادی کو منانے کے لئے تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب کا آغاز حمیرا قریشی نے تلاوت کلام پاک سے کیا جبکہ میزبانی کے فرائض صوفیہ اعجاز نے سر انجام دیے تقریب کے موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین رہنماﺅں، کاروباری شخصیات اور پروفیشنلز نے کثیر تعداد نے شرکت کی تقریب کا مقصد خواتین کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جہاں وہ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے مضبوط بنا سکیں، اپنے تجربات کا تبادلہ کریں اور کراچی ڈویڑن میں خواتین کی زیرِ قیادت کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے سکیں اس موقع پر فاﺅنڈر پریذیڈینٹ روبینہ لئیق نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو کاروبار، قیادت اور سماجی ترقی کے میدان میں مساوی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے ملکی معیشت اور معاشرتی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکیں انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر پائیدار ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا اس مقصد کے لیے خواتین کی پیشہ ورانہ تربیت، رہنمائی، نیٹ ورکنگ اور کاروباری مواقع کی فراہمی ناگزیر ہے روبینہ لئیق نے مزید کہا کہ یہ پلیٹ فارم خواتین رہنماﺅں، کاروباری شخصیات اور پروفیشنلز کو ایک دوسرے سے جوڑنے، باہمی تعاون کو فروغ دینے اور نئی نسل کی خواتین کو قیادت اور کاروبار کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی فراہم کرے گا اجلاس میں باہمی تعاون، نیٹ ورکنگ، قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ اور خواتین کی پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے مستقبل میں مختلف پروگرامز، ورکشاپس اور تربیتی نشستوں کے انعقاد پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر فاﺅنڈر سینئر وائس پریذینٹ صفیہ بانو نے کہا کہ اس پلیٹ فارم کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا، انہیں کاروباری مواقع سے جوڑنا اور ایک مضبوط و موثر نیٹ ورک تشکیل دینا ہے تاکہ خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروبار مزید ترقی کر سکیں تقریب کے موقع پر فاﺅنڈر وائس پریذینٹ شگفتہ بخت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خواتین کی ترقی، کاروباری استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے آئندہ بھی ایسے مثبت اقدامات جاری رکھیں گے انہوں نے کہا کہ کاروباری خواتین کے تجارتی وفود کے تبادلے سے نہ صرف باہمی تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ نئی سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع بھی پیدا ہوں گے شگفتہ بخت نے کہا کہ مختلف ممالک کی کاروباری خواتین کے درمیان روابط کے فروغ سے تجربات، مہارتوں اور جدید کاروباری رجحانات کے تبادلے کو فروغ ملے گا، جو خواتین کو معاشی طور پر مزید بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا
خواتین کو بااختیار بنائے بغیر پائیدار ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا روبینہ لئیق
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل