جیکب آباد: ریٹائرڈ سرکاری ملازمین ماہانہ پینشن سے تاحال محروم

جیکب آباد ( انیس جکھرانی) جیکب آباد میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو ماہانہ پینشن کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث شدید مالی مشکلات اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔ متاثرہ ملازمین نے خزانہ دفتر (ٹریزری آفس) کے عملے پر من مانی اور نااہلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی خزانہ دفاتر کو ختم کر کے پینشن کے تمام اختیارات اکاو¿نٹنٹ جنرل (اے جی) سندھ کے سپرد کیے جائیں۔تفصیلات کے مطابق، جیکب آباد کے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اپنی ماہانہ پینشن سے تاحال محروم ہیں۔ پینشنرز کا کہنا ہے کہ خزانہ دفتر کے عملے کی غفلت اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے بزرگ شہریوں کو دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑ رہی ہیں۔متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ ٹریزری آفس کا عملہ بلاجواز اور غیر ضروری تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے، اور مبینہ طور پر کوئی بھی ذمہ دار ادارہ ان کی پرسانِ حال نہیں ہے۔ پینشن بروقت نہ ملنے کے باعث بزرگ شہریوں کے لیے دو وقت کی روٹی اور ادویات کا حصول بھی دشوار ہو چکا ہے۔ریٹائرڈ ملازمین اور عمر رسیدہ شہریوں نے اکاو¿نٹنٹ جنرل (اے جی) سندھ، محتسب اعلیٰ سندھ اور ڈپٹی کمشنر جیکب آباد سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے پ±رزور مطالبہ کیا ہے کہ: ریٹائرڈ ملازمین کی ماہ جولائی کی پینشن کی ادائیگی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے اور ٹریزری آفس جیکب آباد کے نااہل اور مبینہ طور پر ہٹ دھرم عملے کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔ مستقبل میں پینشن کی بروقت فراہمی کے لیے موثر اور شفاف نظام وضع کیا جائے تاکہ بزرگ شہریوں کو مزید اذیت سے بچایا جا سکے، اور ضلعی خزانہ دفاتر کو بند کر کے پینشن کے تمام اختیارات براہِ راست اے جی سندھ کے پاس منتقل کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں