صوبوں کی تقسیم کیلئے غیر متنازعہ بااختیار پارلیمنٹ ، اتفاق رائے ،اجتماعی دانش کی ضرورت ہے ‘ سعد رفیق

لاہور….. پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ابتر حالات کی بہتری کے لئے 7نکاتی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ا صلاحات و اقدامات کی جانب بڑھے بغیر سسٹم کو ری سیٹ کرنے ، گڈ گورننس ، ملکی ترقی ، استحکام اور قومی اتحاد کی خواہشات بے نتیجہ اور خواب و خیال ہی رہیں گی ،چھوٹے صوبوں کا قیام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے اقدامات مناسب اور ترقی پسند تجاویز ہیںلیکن ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں ہے ، ہمارے سب سے بڑے مسئلے آئین اور قانون کی حکمرانی سے مسلسل رو گردانی ، مطلق العنان حکمرانی ، معاشی ناہمواری ، سماجی انصاف کی عدم فراہمی ، سیاسی حقوق کی عدم دستیابی ،ہر سو پھیلتی کرپشن اور بڑھتی ہوئی دہشتگردی ہیں۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بہت سی مثبت تبدیلیوں کے باوجود پاکستان کے ریاستی نظام سے اب تک برطانوی استعماری نظام کی بدبو کے بھبکے اٹھتے رہتے ہیں۔1973 کے متفقہ آئین نے بہت سے سوالات کا جواب دیا اور بیشتر ریاستی معاملات کی پیچیدگیوں کو حل کیا، ریاست اور عوام کے ایک دوسرے کے بارے میں فرائض اور حقوق کا راستہ متعین کیا ، لیکن آئین بنانے والی سیاسی جماعتوں کی اکثریت سمیت عدلیہ اور مارشل لگانے والوں نے آئین کو بے وقعت بنانے ، اس کی من چاہی تشریح کرنے اور اس سے سنگین روگردانی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ،بارہا پاکستان کو سر زمین بے آئین بنایا گیا اور متعدد بار شخصی یا گروہی مفادات کیلئے آئین میں تحریف کی گئی۔اس کار ِخیر میں سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا لیکن نظریہ ضرورت والی عدلیہ اور مارشل لاءکو تمام مسائل کا حل سمجھنے والی اسٹیبلشمنٹ پہلے نمبر پر رہیں۔تمام تر قربانیوں ،کوششوں اور جدوجہد کے باوجود پاکستان میں آئین کی حکمرانی قائم نہیں کی جاسکی۔پاکستان کی بظاہر جمہوری سیاسی جماعتوں کی جمہوریت بیزاری ، عمومی ڈنگ ٹپا ﺅپالیسیاں اور ووٹ لینے کیلئے شارٹ ٹرم ناپائیدار منصوبے بھی ایک زندہ حقیقت ہیںجس سے اغماض ممکن نہیں ۔ انہوںنے کہا کہ کافی عرصہ سے پاکستان کے ریاستی نظام کو بوسیدہ یا ناکام قرار دیتے ہوئے قوم کو درپیش تمام مسائل کے حل کیلئے چھوٹے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور لوکل باڈیز سسٹم کے ذریعے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو آب حیات قرار دیا جا رہا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام تر کاوشوں کے باوجود رائج الوقت سیاسی و ریاستی نظام پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کو حل کرنے میں نہ صرف ناکام رہا ہے بلکہ آئے روز پیچیدگیوں میں اضافہ کر رہا ہے ۔چھوٹے صوبوں کا قیام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے اقدامات مناسب اور ترقی پسند تجاویز ہیںلیکن ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں ہے ، ہمارے سب سے بڑے مسئلے آئین اور قانون کی حکمرانی سے مسلسل رو گردانی ، مطلق العنان حکمرانی ، معاشی ناہمواری ، سماجی انصاف کی عدم فراہمی ، سیاسی حقوق کی عدم دستیابی ،ہر سو پھیلتی کرپشن اور بڑھتی ہوئی دہشتگردی ہیں۔آپ کوئی بھی نظام لے آئیں جب تک فیصلہ ساز اشرافیہ اپنے آپ کو آئینی حدود تک محدود نہیں کرے گی ، عوامی اضطراب کا لاوا پکتا اور کسی نہ کسی شکل میں بہتا رہے گا ۔انہوں نے کہا کہ چار صوبوں کو چند مزید چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنا عوامی مسائل کو دہلیز پر حل کرنے ، سیاسی اجارہ داریوں میں کمی لانے اور گڈ گورننس کی جانب پیش قدمی کی بنیاد بن سکتا ہے ،اس مقصد کیلئے غیر متنازعہ و بااختیار پارلیمنٹ کا وجود ، سیاسی ہم آہنگی و استحکام ، وسیع تر اتفاق رائے اور اجتماعی دانش کی ضرورت ہے ، فی الوقت ان اقدامات کے امکانات دور تک نظر نہیں آ رہے۔اس ماحول کو پیدا کیے بغیر نئے صوبوں کے قیام کیلئے کسی بھی قسم کی قانون سازی بحرانوں سے نبرد آزما وفاق کیلئے نئی دراڑیں اور پیچیدہ مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ افلاس ، نا انصافی اور بنیادی حقوق سے محروم پسے ہوئے عوامی طبقات کے اضطراب کا آتش فشاں پھٹنے کے قریب ہے ، ایسا ہوا تو اس کا آتش گیر لاوا سامنے آنے والی ہرشے جلا دے گا ۔لازم ہے کہ ریاست پاکستان کو نئے عذابوں اور طوفانوں سے محفوظ رکھنے اور قومی وحدت کو بچانے کیلئے وسیع تر اور نتیجہ خیز اصلاحات نافذ کی جائیں جس کے تحت عوامی مسائل دہلیز پر حل کرنے کیلئے لوکل باڈیز سسٹم کو اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظ دیا جائے،سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کے آزادانہ مواقع فراہم کیے جائیں ،،نوجوان سال قیادت سامنے لانے کیلئے تعلیمی ڈسپلن کی حدود میں رہتے ہوہئے ابتدا ءپوسٹ گریجوایٹ سطح پر طلبہ یونینز کے انتخابات بحال کیے جائیں ،انتخابی عمل کو شفاف اور سستا بنانے کیلئے الیکشن کمشن آف پاکستان کو ہر دباﺅ سے آزاد اورخود مختار ادارہ بنایا جائے ،انتخابی اصلاحات کی جائیں ، ووٹ کے فیصلے کو ہر حال میں تسلیم کیا جائے ،سیاسی جماعتوں کو ہر تین برس کے بعد شفاف اور واضح اندرونی جماعتی انتخابات کروانے کا پابند کیا جائے ،تمام ریاستی ادارے آئینی توازن کی راہ اپنائیں ، ایک دوسرے کے معاملات اور دائرہ کار میں مداخلت بند کی جائے ،زرعی ، صنعتی اور ٹیکس اصلاحات کی جائیں ،اگر ممکن ہو تو ہماری حکمران اشرافیہ اوپر سے نیچے تک کرپشن فری ، قوانین کا پابند ، انصاف اور بنیادی حقوق کا ضامن سماج تشکیل دینے کیلئے نہایت سنجیدگی سے پیش قدمی کرے ،ان ا صلاحات و اقدامات کی جانب بڑھے بغیر سسٹم کو ری سیٹ کرنے ، گڈ گورننس ، ملکی ترقی ، استحکام اور قومی اتحاد کی خواہشات بے نتیجہ اور خواب و خیال ہی رہیں گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں