جیکب آباد (رپورٹ انیس جکھرانی):تحصیل گڑھی خیرو کے پسماندہ علاقوں میں شدید گرمی اور حبس کی لہر نے غریب عوام کا جینا محال کر رکھا ہے، جبکہ دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے غریب مستحق خاندانوں میں تقسیم کیے جانے والے سولر سسٹمز کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ذرائع کے مطابق تحصیل گڑھی خیرو کے نواحی دیہات صوفی غلام مصطفیٰ جکھرانی اور فیض آباد جکھرانی میں بجلی کی سہولت نہ ہونے اور کختی گرمی نے مکینوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ علاقے کے غریب اور مستحق افراد، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، شدید گرمی اور ہیٹ اسٹروک کے خطرات کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔مکینوں اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتی اعلان کے باوجود تاحال سولر پینلز زمینی سطح پر تقسیم نہیں کیے جا سکے، جس کی وجہ سے غریب عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں “ایک طرف سورج آگ برسا رہا ہے اور دوسری طرف بجلی کی عدم موجودگی نے عوام کا سکھ چین چھین لیا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے منظور شدہ سولر سسٹمز کی بروقت تقسیم نہ ہونا انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔علاقے کے معززین اور سول سوسائٹی نے ڈپٹی کمشنر جیکب آباد اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ: گڑھی خیرو کے دیہات صوفی غلام مصطفیٰ جکھرانی اور فیض آباد جکھرانی میں سولر سسٹمز کی تقسیم میں حائل تاخیر کا فوری نوٹس لیا جائے۔ متعلقہ محکمے اور بااختیار حکام کو پابند بنایا جائے کہ وہ فوری طور پر شفاف انداز میں مستحقین میں سولر سسٹمز کی تقسیم کو یقینی بنائیں۔ تاکہ شدید گرمی کے اس موسم میں غریب عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
گاو¿ں صوفی غلام مصطفیٰ جکھرانی اور فیض آباد جکھرانی کے مکین سندھ حکومت کے سولر سسٹمز کے منتظر
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل