کراچی(اسٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویڑن اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ میں حاجی محمد رفیق پردیسی کو پاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کی تجویز دوں گا۔انھوں نے کہا کہ حاجی محمد رفیق پردیسی نے22 جلدوں پر مشتمل اردو لغت کی تیاری میں تعاون کرکے ایک اہم قومی خدمت انجام دی ہے اردو لغت کی تین جلدیں مکمل ہوچکی ہیں باقی جلدیں ایک سال میں مکمل ہوجائیں گی وہ ادارہ فروغِ قومی زبان کے زیرِ اہتمام ادارے کے فیلڈ دفتر اردو لغت بورڈ ، کراچی کی تیار کردہ “اردو لغت (تاریخی اصول پر)کی جدید و مستند اشاعت” کی پہلی تین جلدوں کی تقریبِ رونمائی جو ایوانِ اردو، ادار فروغِ قومی زبان، اسلام آباد میں منعقد ہوئی سے بطور صدر تقریب خطاب کر رہے تھے اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ اردو ہماری قومی شناخت اور تہذیبی ورثے کی امین زبان ہے۔ انھوں نے کہا کہ مستند اردو لغت کی اشاعت قومی علمی سرمایہ ہے، جس کے فروغ کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس لغت کی خوبصورت نستعلیق اشاعت اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو کا سفر آگے بڑھ رہا ہے قومی ورثہ و ثقافت ڈویڑن اپنے تمام اداروں کے ذریعے اپنے اپنے دائرہ کار میں قابل ِقدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ ادارہ فروغِ قومی زبان ان کاموں میں سب سے نمایاں ہے اس علمی کام پر حاجی محمد رفیق پردیسی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ادارہ فروغِ قومی زبان اور اردو لغت بورڈ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔میں حاجی محمد رفیق پردیسی کو پاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کی تجویز بھی دوں گا تقریب کی صدارت وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویڑن اورنگزیب خان کھچی نے کی جبکہ وفاقی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی اور معروف ماہرِ لسانیات ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی مہمانانِ خصوصی تھے ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد حمید نے خیرمقدمی کلمات ادا کیے۔ ڈاکٹر غزل یعقوب اور محمد طارق بن آزاد نے نظامت کے فرائض ادا کیے۔ مہمانِ خصوصی سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ اردو لغت کی یہ جدید اشاعت برسوں کی علمی محنت کا ثمر ہے۔ادارہ فروغِ قومی زبان، قومی زبان کے فروغ اور علمی منصوبوں کی تکمیل میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہا ہے انھوں نے کہا کہ جنھوں نے اپنی لغت کو محفوظ کیا انھوں نے اپنے علمی ذخائر اور ثقافت کو محفوظ کیا۔اس ادارے نے اردو کے فروغِ میں کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر اور ان کی پوری ٹیم بلاشبہ اس کامیابی پر مبارک باد کی مستحق ہے۔پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر، ڈائریکٹر جنرل ادار فروغِ قومی زبان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تہذیب و تمدن، اردو ادب اور ثقافت کے لیے وقت نکالنے والے قابلِ تعریف ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد ہمارے لیڈروں نے زبان و ادب کے حوالے سے جو گیارہ ادارے قائم کیے وہ بہت اہم ہیں اور ادارہ فروغِ قومی زبان ان میں سے ایک ہے۔ یہ لغت دنیا کی کسی بھی ڈکشنری کے ساتھ مقابلے میں رکھی جائے تو عمدہ قرار دی جائے گی۔ ثقافت کا شعبہ کسی بھی ملک کا سب سے نمایاں شعبہ ہوتا ہے۔اردو لغت کی پہلی جلد 1977 میں اور آخری جلد 2010 میں چھپی لیکن ہم اب یہ کام جلد مکمل کر لیں گے۔ ڈاکٹر راشد حمید نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ برکاتی فانڈیشن کے بانی حاجی محمد رفیق پردیسی کے اس منصوبے کی مالی ذمہ داری اپنے سر لے کر بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔وفاقی حکومت کی سرپرستی میں یہ منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔مہمانِ خصوصی ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی نے کہا کہ تاریخی اصولوں پر مرتب اردو لغت تحقیق کے میدان میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس جدید اشاعت سے محققین اور طلبہ کو مستند لسانی مواد تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ آج کی محفل سے احساس ہوا کہ بزرگوں کی محنت کو چھاپنے کی میری یہ نیکی قبول ہوئی اردو میری ماں ہے اور میں اپنی ماں پر خرچ کررہا ہوں جس کی مجھے خوشی ہے۔ میں نے دنیا دیکھی مگر میرے ملک جیسا کوئی ملک نہیں انجمن ترقیِ اردو کے سربراہ واجد جوادنے کہا کہ امید ہے کہ اس لغت کی 22 جلدوں کی اشاعت میں پہلے کی طرح کئی برس نہیں لگیں گے اور ادار فروغِ قومی زبان جلد از جلد مکمل 22 جلدیں جدید نستیعلیق انداز میں چھاپ لے گا۔ یونیسکو نے اردو کو ان زبانوں کی فہرست میں رکھا ہوا ہے جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں مگر اس لغت کی وجہ سے ہم اس فہرست سے باہر نکلنے کے قابل ہوئے۔ ڈاکٹر فاروق عادل نے کہا کہ اس لغت میں نہ صرف ہر لفظ کی جڑ بلکہ اس کے آغاز سے اب تک کے سفر کو بھی بیان کیا گیا ہے۔اس لغت میں نثر کے ساتھ ساتھ شعر سے بھی مثالیں دی گئی ہیں، جو اس کی انفرادیت ہے۔ڈاکٹر عابد سیال نے کہا کہ اردو دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے ،جو تمام برصغیر میں کسی نہ کسی حد تک بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہ اردو لغت تاریخی اصول پر ایک ایسا کام ہے جو دنیا بھر میں ہمارے ملک کی شناخت بنے گا۔ ڈاکٹرحمیرا اشفاق نے کہا کہ یہ صرف لغت نہیں بلکہ دو اہم ادوار کا ملاپ ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ علم کے تقاضے بدل رہے ہیں، ایسے میں اس لغت کے کارڈ بھی سکین کر کے ای شکل میں طلبہ کی سہولت کے لیے دستیاب ہونا بہت بڑی کامیابی ہے۔یہ لغت بیک وقت کتابی اور برقی دونوں شکل میں دستیاب ہے۔ڈاکٹر رابعہ کیانی نے کہا کہ اردو لغت محض ایک کتاب کی اشاعت نہیں بلکہ ایک ثقافت کو سمجھنے کا مستند ذریعہ ہے۔ اس تاریخی لغت کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے ہر لفظ کو اس کی تاریخی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ڈاکٹر امجد کلو نے کہا کہ لغت کی اہمیت عام کتب سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اس کا ہر لفظ اپنے اندر ایک مضمون سموئے ہوتا ہے تقریب کے اختتام پر محمد رفیق پردیسی اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویڑن اورنگزیب خان کھچی کے مابین 22 جلدوں کی اشاعت کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ حاجی محمد رفیق پردیسی نے تبرکات، قرآن حکیم کا قیمتی نسخہ اور لغت کی تینوں جلدیں وفاقی وزیر کو پیش کی گئیں جبکہ وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی اور ادار فروغِ قومی زبان کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہرنے سندِ سپاس ڈاکٹر حاجی محمد رفیق پردیسی کو پیش کی۔
مستند اردو لغت کی اشاعت قومی علمی سرمایہ ہے،اورنگزیب کھچی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل