24گھنٹوں میںتیز بارش ،فلیش فلڈز سے چھتیں ،دیواریں گرنے ،گاڑیاں بہہ جانے سے 17جاں بحق ،متعدد زخمی

لاہور/پشاور/پاکپتن/ڈی جی خان/گوجرانوالہ /نارووال/لنڈی کوتل/چترال لوئر/مظفر آباد۔۔۔۔۔ملک کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران تیز بارش ،فلیش فلڈز سے گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے اور گاڑیاں پانی میں بہہ جانے سے بچوں سمیت17افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے، حادثات میںکئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ،سیلابی ریلوںمیں گاڑیوںکے بہہ جانے کے حادثات بھی پیش آئے ،دریائے راوی میں پانی بڑھنے پر 42افراد پھنس گئے، جن کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا،کاغان اور ناران میں شدید بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں بند ہو گئیں،بھارت کے تھین،پونگ اور بھاکھڑا ڈیمز سے اخراج کی صورت میں راوی اور ستلج میں پانی کا بہا ﺅبڑھنے کا الرٹ جاری کر دیا گیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز بارش اور فلیش فلڈز سے گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے باعث بچوں سمیت17افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا ہ میں تیز بارش اور فلیش فلڈز سے گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے باعث 12افراد جاں بحق جبکہ 15زخمی ہو گئے ہیں۔ تیز بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 14گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 13گھروں کو جزوی جبکہ ایک گھر مکمل منہدم ہوا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع پشاور، لنڈی کوتل، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، چترال لوئر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تور غر اور کرم میں پیش آئے۔دوسری جانب لنڈی کوتل میں ریسکیو 1122نے پاک افغان شاہراہ پر پھنس جانے والی 100سے زائد گاڑیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا،سیلابی ریلے میں تین گاڑیاں بہہ گئیں جن میں سے 6افراد کی لاشیں تلاش کر لی گئیں۔نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک کے صاحبزادہ ٹان میں سیلابی ریلے میں پھنسے 12افراد بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا، آدم زئی کے قریب فلیش فلڈ میں محصور 5 سے 6افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، دونوں ریسکیو آپریشنز کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔چترال لوئر کے مختلف ندی نالوں میں سیلاب، شیشی کوہ ٹینگل، جغورگول اور دیگر علاقوں میں طغیانی سے انفراسٹرکچرکوشدید نقصان پہنچا،مین رابطہ پل سیلاب برد ہوگیا، سیلاب سے کھڑی فصلیں، باغات، املاک اور نشیبی علاقوں کے مکانات متاثر ہوئے۔مظفرآباد میں شاہراہ نیلم کہوڑی کے مقام پر گاڑی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر دریائے نیلم میں جاگری، گاڑی سے ایک شخص کو بچا لیا گیا جبکہ دوافراد لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔گوجرانوالہ اور گردونواح میں موسلا دھار بارش کے باعث مختلف حادثات میں 2افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ بختے والا محلہ میں کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق ہوگیا جبکہ تحصیل نوشہرہ ورکاں کے علاقے تتلے عالی میں بارش کے باعث رائس مل کی چھت گرگئی، ملبہ تلے دب کر ایک مزدور جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوگئے۔کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جھیل سیف الملوک روڈ اور بٹہ کنڈی کے مقام پر ٹریفک معطل ہو گئی تاہم مشینری اور عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گیا۔حکام کے مطابق جھیل سیف الملوک کا راستہ کھول دیا گیا ہے لیکن دوبارہ لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر سیاحوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ڈپٹی ڈائریکٹر کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی رحم دل خان نے کہا کہ مسافروں کی حفاظت کے لیے جھیل سیف الملوک کا راستہ بند رکھا گیا ہے اور شہری سفر سے قبل راستوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔انہوں نے بتایا کہ بٹہ کنڈی روڈ کو عارضی طور پر کھولا گیا تھا، تاہم مزید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث یہ سڑک دوبارہ بند ہو گئی، جس سے گلگت جانے والا راستہ بھی متاثر ہوا ہے۔کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق بھاری مشینری کی مدد سے راستے بحال کرنے کا کام جاری ہے۔دوسری جانب بارش کے باعث پاکپتن کے علاقے33ایس پی میں گھر کی چھت گرنے سے دو بچے جاں بحق جبکہ ان کی والدہ شدید زخمی ہو گئیں۔ریسکیو حکام کے مطابق چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 7سالہ عثمان اور 9سالہ نور فاطمہ جان کی بازی ہار گئے۔حادثے میں بچوں کی والدہ شدید زخمی ہوئیں، جنہیں ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے نکال کر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا۔منڈی بہاﺅالدین میں بارش کے باعث چھتیں اور دیوار گرنے کے تین مختلف حادثات میں 4خواتین سمیت 6افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ریسکیو کے مطابق ڈفر کے قریب مکان کی چھت گرنے سے تین خواتین اور کاکوال کے قریب دیوار گرنے سے ایک خاتون شدید زخمی ہو گئی۔کدھرپل کے قریب لکڑی کا شیڈ گرنے کے باعث دو افراد شدید زخمی ہوئے ہیں،تمام افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔دریائے راوی میں پانی بڑھنے پر 42افراد پھنس گئے، جن کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا، دھان کی کاشت کے لیے دریا پار جانے والے افراد کو بوٹ کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نارووال طیب خان کے مطابق پی ڈی ایم اے الرٹ کے بعد ضلعی انتظامیہ نے تمام اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، کرتار پور شکر گڑھ میں ریسکیوفلڈ پوسٹیںقائم کر دی گئی، کرتارپور میں بھی ریسکیو 24گھنٹے ہائی الرٹ ہے۔کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری نے لیہ کے نشیبی علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا اور دریائی کٹا ﺅسے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کیا۔کمشنر نے موضع سمرا نشیب کی بستی کنجال میں دریائی کٹا سے متاثرہ علاقے کا جائزہ لیا۔ کمشنر اشفاق احمد چوہدری نے بتایا کہ دریائی کٹا ﺅکے تدارک کا کیس پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو بھجوا دیا گیا ہے، جبکہ سمرا نشیب میں حفاظتی اسٹڈ بند کی تعمیر کی اسکیم بھی پی ڈی ایم اے کو ارسال کردی گئی ہے۔انہوں نے تمام متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر مزید خیمے فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ اسکولوں کی تعمیر نو کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔کمشنر نے متاثرہ خاندانوں کے لیے زمین الاٹمنٹ اسکیم کی سفارشات پنجاب حکومت کو بھجوانے کی بھی ہدایت کی۔این ڈی ایم اے نے 24جولائی تک مختلف علاقوں کیلئے ممکنہ خطرات پر الرٹ جاری کردیا،اعلامیے کے مطابق دریاﺅں،ندی نالوں اور پہاڑی برساتی گزرگاہوں میں اچانک سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے۔شمشال، ہنزہ، چپورسن، کلیک، شگر، شیوک اور ہشے دریاﺅں میں سیلابی ریلے آسکتے ہیں، دریائے جہلم، نیلم، پونچھ، مہل، بیٹار نالہ، بھمبر نالہ، کانشی دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے۔ ڈی جی خان، پوٹھوہار ریجن کے پہاڑی برساتی نالوں اور دریائے سواں میں طغیانی کا امکان ہے۔دریائے چترال، کابل، سوات، پنجکوڑہ، مقم اور کلپانی نالے میں بھی سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے۔ خیبر، کرم، اورکزئی، کوہاٹ، بنوں، کرک، ہنگو، لکی مروت، وزیرستان میں سیلابی ریلوں کا خطرہ ہے، باجوڑ، مہمند، مانسہرہ، بونیر اور صوابی کے ندی نالوں میں بھی سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق شمال مشرقی بلوچستان کے برساتی ندی نالوں اور دریاں میں بھی طغیانی کا خدشہ ہے، دریا چناب میں مرالہ اور دریا جہلم میں منگلا کے مقام میں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق ڈورا، ڈوٹا، ڈوارہ، بھمبر، ہلسی، ایک، پلکھو، بین، بسنتر، ڈیک اور سکھی نالوں میں بھی پانی بلند ہونے کی توقع ہے، بھارت کے تھین،پونگ اور بھاکھڑا ڈیمز سے اخراج ہوا تو راوی اور ستلج میں پانی کا بہا ﺅبڑھ سکتا ہے۔راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، سرگودھا، خوشاب، سیالکوٹ، گجرات، لاہور،نارووال، اوکاڑہ،چکوال اور اٹک کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔این ڈی ایم اے نے حساس علاقوں میں حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کردی،21 سے سے 23 جولائی تک چترال اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔ این ڈی ایم اے نے عوام کو حساس مقامات اور پہاڑی علاقوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں