کراچی۔۔۔۔۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مو¿ثر اقدامات کرے، جبکہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان موجود کشیدگی کے خاتمے کے لیے مسلسل مذاکرات، سفارتی رابطوں اور گرینڈ جرگے کے انعقاد کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات تاریخی، مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر استوار ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور باہمی اعتماد سے تلاش کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی عبوری حکومت سے ان کا سب سے بڑا شکوہ یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، حالانکہ یہ کسی صورت نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ایسے گروہ یا عناصر کے استعمال سے روکیں جو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے صرف سرکاری سطح پر ہی نہیں بلکہ دینی قیادت، قبائلی عمائدین اور بین الاقوامی علما کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ قبائلی نمائندوں پر مشتمل ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جائے، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور مسائل کے پائیدار حل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین، روس اور ترکیہ جیسے دوست ممالک بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں، اس لیے تمام متعلقہ فریقین کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے بقول لڑائی اور کشیدگی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں، جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام گزشتہ تقریباً پچاس برس سے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہے ہیں۔ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، انہیں روزگار، کاروبار اور زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے، اس لیے عوام کے درمیان تعلقات کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ناراضی حکومتوں، پالیسیوں یا سیاسی فیصلوں سے ہو سکتی ہے، لیکن عوام کو اس کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ افغانستان کے مشکل حالات میں پاکستانی عوام نے ہر ممکن تعاون کیا اور افغان عوام کو اپنے بھائیوں کی طرح قبول کیا، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت پاکستان پر بھی زور دیا کہ وہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کا ایک دور کامیاب نہ ہو تو دوسرا اور تیسرا دور شروع کیا جانا چاہیے، کیونکہ مستقل بات چیت ہی اس مسئلے کا واحد قابل عمل حل ہے۔انہوں نے سرحدی تجارت کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بارڈر ٹریڈ کے فروغ سے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت مستحکم ہو سکتی ہے بلکہ باہمی اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شعبے میں تجربہ رکھنے والے ماہرین موجود ہیں اور اگر حکومت سنجیدگی سے پیش رفت کرے تو جماعت اسلامی بھی ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔امیر جماعت اسلامی نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور افغانستان مشترکہ مفادات، باہمی احترام اور برادرانہ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے تمام اختلافات حل کریں گے، تاکہ خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کو فروغ مل سکے۔
افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، طالبان موثر اقدامات کریں: حافظ نعیم الرحمٰن
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل