اسلام آباد۔۔۔۔) وفاقی کابینہ اور وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی، اوگرا روزانہ کی قیمتوں کا تعین کرکے ویب سائٹ پر لگایا کرے گی، یومیہ بنیاد پر عالمی منڈی کو مدنظر رکھ کر قیمتوں کا تعین کیا جائے گا، روزانہ کی بنیاد پرجتنا اتار چڑھا ہوگا وہ عوام کو منتقل کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے، جنگ کی وجہ سے تیل کی منڈیوں میں جو بھونچال آیا ہوا تھا وہ پھر نظر آرہا ہے، ڈیزل کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے، بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر بڑھنا شروع ہوگئی ہیں۔علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی حکومت نے 130 ارب روپے کے وسائل استعمال کرکے لوگوں کو سہارا دینے کی کوشش کی، خطے میں ایک بار پھر جنگ ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے، کچھ دنوں سے ڈیزل کی قیمت میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے، پیٹرول ڈیزل پر لیوی اور کاربن سپورٹ لیوی کی سطح پہلے سے کم ہے۔وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت 110 سے بڑھ کر 140 ڈالر ہوچکی ہے، عوام کا شکر گزار ہوں کہ بے پناہ تحمل کے ساتھ یہ تکلیف جھیلنے کی کوشش کی، ٹارگٹڈ سبسڈی کا پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں اس کے باوجود عوام میں تکلیف میں ہے، عوام پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہیں ڈالا گیا، حکومت پیٹرولیم مصنوعات کو ڈی ریگولیشن کی طرف لے جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو پتا ہونا چاہیے کہ کیوں قیمتیں بڑھانا ضروری ہے، ہم نے اس شعبے کو ڈی ریگولیشن کی طرف لے کر جانا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے، ریفائنری اپ گریڈ پالیسی بھی کابینہ کمیٹی میں چلی گئی ہے، آئل سیکٹر میں ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی پر کارروائی ہوگی۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق خطے میں جاری کشیدگی سے ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان پر بھی پڑتے ہیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششوں کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب کشیدگی عروج پر تھی تو دنیا بھر میں تیل کی قلت پیدا ہوئی، تاہم پاکستان نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے اضافی ذخائر کا انتظام کیا اور ملک میں پٹرول کی قلت نہیں ہونے دی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مختلف ممالک سے کارگو منگوا کر ملکی توانائی کی ضروریات پوری کی گئیں، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے زیادہ منافع کمانے کی بات درست نہیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب ہفتہ وار کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور بچیوں کو الیکٹرک وہیکل چلاتے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، ملک میں جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے، کسی کو بھی پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ تیل کی قیمتوں کا عالمی منڈی میں بڑھنے کا تعلق خطے میں کشیدگی بڑھنے سے ہے، حکومت کی بہتر پالیسی کی وجہ سے توانائی کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی، حکومت کااعلان
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل