یومِ عاشور ہمیں حق، صبر، استقامت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے،سہیل آفریدی
پشاور۔۔۔۔۔۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے یومِ عاشور کے موقع پر پشاور میں مرکزی جلوس کے مقام اور سپریم کمانڈ پوسٹ کوہاٹی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے محرم الحرام کے دوران قائم مرکزی کنٹرول روم، سکیورٹی انتظامات اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہیں صوبے بھر بالخصوص پشاور میں یومِ عاشور کے حوالے سے سکیورٹی انتظامات، صفائی، ٹریفک، بجلی، گیس کی فراہمی اور دیگر انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیر اعلیٰ نے کوہاٹی میں مرکزی جلوس کے مقام کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یومِ عاشور کے موقع پر صوبہ بھر میں کیے گئے بہترین سکیورٹی اور انتظامی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پشاور میں زائرین سے ملاقات کے دوران پولیس، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کی کارکردگی کو بھرپور انداز میں سراہا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام اداروں نے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یومِ عاشور ہمیں حق، صبر، استقامت اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ ظلم کرنے والوں کا انجام ہمیشہ ذلت ہوتا ہے جبکہ حق اور سچ پر قائم رہنے والوں کو تاریخ ہمیشہ عزت و احترام سے یاد رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین نے حق کی سربلندی کے لیے عظیم قربانیاں دیں اور ان کی سیرت پوری امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق کی راہ پر ثابت قدم رہنے والوں کو ہی ہمیشہ کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں فرائض انجام دینے والے پولیس، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔بعد ازاں سپریم کمانڈ پوسٹ کے دورہ کے موقع پر مرکزی کنٹرول روم میں متعلقہ حکام سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کی مربوط اور مشترکہ کاوشوں سے پرامن طریقے سے محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقاد ممکن ہوا۔ انہوں نے سپریم کمانڈ پوسٹ میں فرائض انجام دینے والے اہلکاروں کے لیے اعزازیے کا اعلان بھی کیا۔ وزیراعلیٰ نے پشاور شہر کے چھ مختلف داخلی مقامات (گیٹس) پر باضابطہ اور مستقل گیٹس نصب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی وال سٹی کے تحفظ اور بحالی کے لیے پشاور ری وائٹلائزیشن پلان میں پہلے سے منصوبہ موجود ہے، جس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ہمارا دکھ درد، خوشی اور غم ایک ہے اور ہم سب مل کر اس صوبے کو ایک بہترین اور عظیم صوبہ بنائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ مالی سال صوبے کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت شروع دن سے پولیس فورس کی استعداد کار بڑھانے، جدید وسائل اور ضروری آلات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کو مرکزی کنٹرول روم میں محرم کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈیش بورڈ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سپریم کمانڈ پوسٹ نے یکم محرم سے چوبیس گھنٹے فعال مرکزی کنٹرول روم کے طور پر کام کیا ہے، جس کا مقصد محرم الحرام کے دوران متعلقہ اداروں اور محکموں کے درمیان رابطہ، مو¿ثر نگرانی اور بروقت ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔ بتایا گیا کہ اس مرکزی کنٹرول روم میں پولیس، ریسکیو، پاک فوج، انٹیلیجنس سمیت 12 مختلف محکموں کے نمائندے موجود ہیں جبکہ اس کے علاوہ پشاور میں چھ مزید کمانڈ پوسٹس بھی قائم کی گئیں۔ مزید بتایا گیا کہ یومِ عاشور کے موقع پر پشاور میں سکیورٹی کے لیے گیارہ ہزار اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ علمائ کرام کی سکیورٹی کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے۔ بتایا گیا کہ آٹھ محرم تک پشاور میں 115 جلوس اور 308 مجالس منعقد ہو چکی تھیں جبکہ دس محرم کے روزمرکزی جلوس کے علاوہ پندرہ جلوس اور دس مجالس منعقد ہوئیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پشاور میں نوّے فیصد جلوس اور مجالس وال سٹی کے اندر منعقد ہوئی ہیں، جہاں فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔