مفتی محمود مرکز کو تجاوزات کے نوٹس میں شامل کرنا بدنیتی ہے،حافظ صدیق مدنی

کوئٹہ (نامہ نگار) جمعیت علماءاسلام چمن بلوچستان کے رہنماءاور سابق ممبر یوتھ پارلیمنٹ حافظ محمد صدیق مدنی نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا ہے کہ جمعیت علماءاسلام کے پشاور دفتر مفتی محمود مرکز کو تجاوزات کے معاملے میں نوٹس دینا بظاہر بدنیتی پر مبنی اقدام محسوس ہوتا ہے جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمود مرکز ایک اہم سیاسی و دینی جماعت کا مرکز ہے جسے سیاسی، جمہوری اور دینی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ ایسے مراکز کے بارے میں کوئی بھی اقدام کرتے وقت متعلقہ قوانین، شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ حافظ محمد صدیق مدنی نے کہا کہ اگر کسی عمارت یا زمین کے حوالے سے قانونی اعتراض موجود ہے تو اس معاملے کو غیر جانب دارانہ تحقیقات، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق حل کیا جائے نہ کہ کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے کا تاثر پیدا کیا جائے۔ قانون کا اطلاق تمام شہریوں، اداروں اور سیاسی جماعتوں پر یکساں ہونا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ جمعیت علمائ اسلام خیبر پختونخوا کے مفتی محمود مرکز کو جاری کردہ نوٹس کے قانونی جواز اور حقائق کو واضح کیا جائے اور اگر کارروائی میں کسی قسم کی ناانصافی یا بدنیتی پائی جاتی ہے تو اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتوں کو اپنے آئینی و قانونی حقوق کے مطابق سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق حاصل ہے، اور کسی بھی ادارے کو اس حق کو متاثر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ حافظ محمد صدیق مدنی نے جمعیت علمائ اسلام کی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام معاملات کو قانون، انصاف اور غیر جانب داری کے اصولوں کے تحت حل کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں