عوام سے 150 ارب روپے ماہانہ وصول کرکے صرف 32 ارب روپے کا ریلیف کہاں کا انصاف ہے؟حافظ نعیم الرحمن

کراچی۔۔۔۔۔۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نورحق میں کراچی آمد کے موقع پر پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی عوامی تحریک، ملکی معاشی صورت حال اور دیگر قومی امور پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام سے 150 ارب روپے ماہانہ وصول کرکے صرف 32 ارب روپے کا ریلیف دینا کہاں کا انصاف ہے؟ حکومت بتائے کہ موجودہ بحران کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا۔عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا پیٹرولیم لیوی سے کوئی تعلق نہیں، اسی لیے ہم اسے غنڈہ اور بھتہ لیوی کہتے ہیں۔ ہم نے حکومت کو ایسے تمام ذرائع بھی بتا دیے ہیں جن کے ذریعے موجودہ ٹیکس نظام میں بھی قومی خزانے کے لیے وسائل پورے کیے جاسکتے ہیں، وزیر اعظم بار بار کہتے ہیں کہ اگر پیٹرولیم لیوی وصول نہیں کی جائے گی تو حکومت کے پاس پیسے نہیں ہوں گے، ایف بی آر میں 1300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے اور یہ ادارہ نااہلی اور بدعنوانی کی بدترین مثال بن چکا ہے۔ حکومت ایف بی آر کی کرپشن کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے اس کرپشن کو ختم اور اس ادارے کو درست کیوں نہیں کرتی ۔حافظ نعیم الرحمن نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وزیر اعظم نے پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس ختم نہ کیا تو نومبر کے وسط میں اسلام آباد لانگ مارچ کریں گے ،حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی کا کوئی جواز نہیں اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت ہر ماہ تقریباً 150 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کررہی ہے، جبکہ حکومت کے بقول عوام کو 32 ارب روپے کا ریلیف دیا جارہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ ریلیف 27 ارب روپے ہے۔ لیوی کی مد میں وصول ہونے والے تقریباً 110 ارب روپے کا بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر پڑ رہا ہے، جس کے باعث آبادی کا ایک بڑا حصہ ریلیف سے محروم رہتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایل پی جی کی قیمت 250 روپے ہے تو مارکیٹ میں یہی گیس 600 روپے میں کیوں فروخت ہورہی ہے؟ یہ صورت حال قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حکومتی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے مکہ الائنس کے ممالک کے ایران میں جمع ہونے کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے کردار کو سرا ہا۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے کے لیے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل پر ایک مذہبی جماعت کے رکن کا اعتراض افسوس ناک ہے۔ سیاسی جماعتوں میں اصولوں کے بجائے نشستوں اور مفادات کو ترجیح دی جارہی ہے ۔ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ مسائل پُرامن طریقے سے حل ہوںاور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے کہ بحرانوں کو ختم کرنے کے بجائے وقتی فائدے کے لیے یوٹیلیٹیز مہنگی کردیتی ہیں، جس سے معیشت پر دبا¶ بڑھتا ہے جسے کم کرنے کے لیے مزید قرضے لیے جاتے ہیں، حکومت کے پاس کوئی طویل مدتی پالیسی نہیں اور قلیل مدتی پالیسیاں بھی ناکام نظر آتی ہیں، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جب بھی کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو حکومت مافیاز کو سہولت فراہم کرتی ہے اور عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پالیسی ریٹ میں کمی کرنے کے بجائے مزید 0.5 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم بینکوں کو منافع دینے پر خرچ کی جارہی ہے، جبکہ عام شہری مہنگائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کی سیاسی جماعتیں مافیاز کے خلاف م¶ثر آواز نہیں اٹھاتیں، کیونکہ ان جماعتوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جن مفادات سے وابستہ ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک اس وقت گندم کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ اگر عوام کو آٹا 8000 روپے فی من مل رہا ہے اور کسان کو گندم کی قیمت 3500 روپے فی من ملتی ہے تو سوال یہ ہے کہ فی من اتنا بڑا فرق اور منافع کہاں جارہا ہے؟ حکومت کسانوں کو مناسب معاوضے اور عوام کو سستے آٹے کی فراہمی یقینی بنائے ۔پاکستان میں کپاس کی فصل، جسے پہلے برآمد کیا جاتا تھا، 60 فیصد تک کم ہوچکی ہے، جبکہ اس کی جگہ گنے کی کاشت بڑھ رہی ہے۔ شریف، ترین اور زرداری خاندانوں کے شوگر ملوں کے مفادات بھی اس صورت حال سے متعلق سوالات پیدا کرتے ہیں۔ حکومت ایسی زرعی پالیسیوں بنائے جو کپاس کی پیداوار، برآمدات اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرسکے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ٹیرف سلیب کا موجودہ نظام عوام کے لیے مشکلات کا باعث ہے اور اس کی اصلاح ضروری ہے۔ آخر آئی پی پیز کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے فوائد عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہے؟ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے جماعت اسلامی نے بھر پور جدو جہد کی ہے ، بجلی نرخوں میں مزید کمی کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں