نیا میثاق جمہوریت کریں، فضل الرحمان کا مشورہ

اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمان نے سیاسی جماعتوں کو ملک کی خاطر نیا میثاق جمہوریت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اگر ٹکر لینا چاہتی ہے تو ہم بھی تیار ہیں۔ حالات اس طرف نہ لے جائیں کہ ہم آپس میں بیٹھ بھی نہ سکیں۔ آئیں اور ملک کی خاطر نیا میثاق جمہوریت کریں۔جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ ایک ہی صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ دعوی کیا گیا کہ گورنر راج کے نفاذ کی آئین میں گنجائش موجود ہے۔ حکومت کی جانب سے آئینی دفعات کا غلط استعمال کیا گیا۔فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کا عمران خان سے ملاقات اور علاج کے بجائے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنا جائز نہیں تھا۔ ہم نے تو معاملے کو ٹھیک طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی، صبح 6 بجے وزیراعظم ہاوس گیا اور کابینہ اجلاس شام تک ملتوی کرنے کی تجویز دی لیکن اسحاق ڈار نے بتایا کہ کابینہ نہیں مان رہی اور گورنر راج لگانے کا فیصلہ ہوا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بلوچستان کے حالات خیبر پختونخوا سے زیادہ خراب نہیں۔ بلوچستان تو دہشت گردی میں کے پی سے آگے ہے، وہاں گورنر راج کیوں نہیں لگایا گیا؟ برداشت کی قوت ختم ہو گئی ہے اور معاملات بگڑتے چلے جا رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کا سر اِدھر تو دھڑ ادھر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں