پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل کی اے پی این ایس ہائوس کا دورہ

کراچی۔۔۔۔پرنسپل انفارمیشن آفیسر (PIO) رئیسہ عادل نے اے پی این ایس ہائوس کا دورہ کیا اور اے پی این ایس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا۔ ان کے ہمراہ محترمہ ارم تنویر، ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی، کراچی بھی تھیں۔اے پی این ایس کے صدر سینیٹر سرمد علی نے پرنسپل انفارمیشن آفیسر (پی آئی او) کا خیرمقدم کیا اور انہیں اخباری صنعت کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے پرنٹ میڈیا کے لیے سرکاری اشتہارات کے نرخ بڑھانے کا وعدہ تاحال پورا نہیں ہو سکا، حالا نکہ اخباری صنعت کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وزیرِ اعظم کے وعدے کے مطابق سرکاری اخباری اشتہارات کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے اور بعد ازاں سرکاری اشتہارات کے نرخوں کو آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی) سے منقطع کر کے اس وقت تک منجمد رکھا جائے جب تک کہ اخبارات کی اشاعت اور قارئین کی تعداد کے تعین کے لیے کوئی نیا طریقہ کار وضع نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ اے بی سی اور پریس رجسٹرار کے دفاتر کو یکجا کر کے ایک ادارہ بنا دیا جائے۔اے پی این ایس کے اراکین نے آڈٹ بیورو آف سرکولیشنز (ABC) اوررجسٹرار کے دفتر میں اصلاحات اور ازسرِنو تنظیم کی ضرورت پر زور دیا۔ اے پی این ایس کے اراکین نے اس امر پر زور دیا کہ رجسٹریشن کے قواعد کو تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد سادہ اور سہل بنایا جائے۔اراکین نے نشاندہی کی کہ پی آئی ڈی اسلام آباد نے 2020ءکی نئی اشتہاری پالیسی کے نفاذ کے بعد جاری کیے گئے رکن مطبوعات کے واجبات کا بڑا حصہ تاحال ادا نہیں کیا۔ انہوں نے پی آئی او سے مطالبہ کیا کہ بقایا واجبات کی ادائیگی میں تیزی لائی جائے اور پرنٹ میڈیا کے لیے اشتہارات کے مجموعی حجم میں منصفانہ حصہ مختص کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پی آئی ڈی کے علاقائی دفاتر کو اپنے علاقوں کے میڈیا پر مبنی پلان تجویز کرنے کا اختیار دیا جائے اور کلائنٹ محکموں کو اپنی پسند کے میڈیا کا انتخاب کرنے کا مجاز بنایا جائے۔اے پی این ایس کے صدر نے مزید نشاندہی کی کہ موجودہ سرکاری اشتہاری پالیسی بڑی حد تک1964ءکے فریم ورک© پر مبنی ہے۔ موجودہ دور کے میڈیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس کا جامع جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔پرنسپل انفارمیشن آفیسر نے اجلاس کے انعقاد پر اے پی این ایس کا شکریہ ادا کیا اور اے پی این ایس کے اراکین کو یقین دلایا کہ مسائل کے جلد از جلد حل کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔اجلاس میں سینیٹر سرمد علی، صدر، محترمہ نازفرین سہگل لاکھانی سینئر نائب صدر، جناب شہاب زبیری نائب صدر، محمد اطہر قاضی سیکریٹری جنرل، جناب جاوید مہر شمسی (کلیم)، قاضی اسد عابد (عبرت)، جناب یونس مہر (ہلچل)، ڈاکٹر جبار خٹک (عوامی آواز)، جناب بلال فاروقی (آغاز)، محترمہ فوزیہ شاہین (دستک)، جناب ممتاز پھلپوٹو (عوامی پرچار)، جناب طاہر قریشی (نئے افق)، سید اکبر طاہر (جسارت)، جناب نجم الدین شیخ (دیانت)، جناب عامر ملک (مشرق)، جناب علی حمزہ ا ور جناب محمد عرفان (امت)نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں