اسلام آباد ۔۔۔۔۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے،اے این پی، مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جانوں کی قربانی دے چکے ہیں، صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے، ایسا کیوں ہے؟،سیاست کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں، پی ٹی آئی تمام حدود پار کر چکی ہے، خیبر پختونخوا حکومت ہر شعبے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے،فنڈز پولیس کی بجائے دھرنوں پر خرچ کر رہی ہے جبکہ وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ ڈھائی سے تین سال کے دوران ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں اور حملہ آور تشکیلوں میں 70 فیصد افغان شہری ملوث ہیں جبکہ ڈی آئی خان چیک پوسٹ حملے میں ملوث دہشت گرد کا سراغ بھی کابل سے ملا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کا دہشت گردوں اور افغانستان کے حوالے سے معاندانہ نرم رویہ، سہولت کاری اور مجرمانہ غفلت ملک کو دہشت گردی کی آگ میں دھکیل رہی ہے۔ پیر کو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ قیادت کی نیت اور طبیعت دونوں خراب ہیں، اپنے موقف پر قائم ہوں کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی قیادت کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی، مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جانوں کی قربانی دے چکے ہیں، صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے، ایسا کیوں ہے؟، پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کے پی میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں چل رہی ہیں؟، کے پی میں موٹر سائیکل پر بھی نمبر پلیٹ موجود نہیں، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لا رہی، یہی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ صوبے میں صحت کےلئے کیا اقدامات کئے، ساڑھے 12 سال سے زائد عرصہ انہوں نے خیبر پختونخوا میں حکومت کی ہے تاہم خیبر پختونخوا کے عوام بنیادی سہولیات کے حصول کے لئے دوسرے صوبوں کا رخ کرتے ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزارت داخلہ نے خیبر پختونخوا پولیس کے لئے جدید گاڑیاں دینے کی پیشکش کی تاہم انہوں نے لینے سے انکار کر دیا، ہمارا پختہ عزم ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کریں گے، پی ٹی آئی قیادت نے خیبر پختونخوا پولیس کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بلوچستان حکومت صوبے میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے، سرفراز بگٹی بہادر اور باصلاحیت وزیراعلیٰ ہیں، پچھلے ایک سال میں نیشنل ایکشن پلان میں سہیل آفریدی اور سرفراز بگٹی کی میٹنگز کا موازنہ کیا جا سکتا ہے، سرفراز بگٹی کو سلام پیش کرنا چاہیے جو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت فنڈز پولیس کی بجائے دھرنوں پر خرچ کر رہی ہے، خیبر پختونخوا حکومت پولیس کو پی ٹی آئی کا سیاسی ونگ بنانا چاہتی ہے، صوبائی پبلک سروس کمیشن کو ختم کر کے یہ تمام تقرریوں کا اختیار اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں، یہ حساب دیں کاﺅنٹر ٹیررازم کی مد میں ملنے والا این ایف سی کا حصہ انہوں نے کہاں خرچ کیا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور طریقے سے عمل درآمد ہو رہا ہے، پی ٹی آئی کو نہ نیشنل کا پتہ ہے، نہ ایکشن کا اور پلان سے بھی یہ لا علم ہیں۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات طلال چوہدری نے بتایا کہ ڈی آئی خان چیک پوسٹ حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت معصوم سویلینز، خواتین، بچے اور غیر مسلح ریسکیو اہلکار شہید ہوئے، ہلاک دہشت گرد کا نادرا میں کوئی ریکارڈ نہیں ملا، تاہم اوپن سورس انٹیلی جنس کے ذریعے تصدیق ہوئی کہ اس کی تصویر کابل کے ایک چوک کی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پراکسیز مشرقی سرحد سے فنڈ اور مغربی سرحد کی محفوظ پناہ گاہوں سے آپریٹ ہو رہی ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے دو طرفہ سطح، بین الاقوامی فورمز، ڈوزیئرز اور مذاکرات کے ذریعے بارہا کابل انتظامیہ کو سمجھایا لیکن افغان عبوری حکومت نے اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال نہیں روکا، معصوم شہریوں اور ریسکیو اہلکاروں پر حملے ڈالروں کے عوض کی جانے والی کھلی دہشت گردی ہے۔انہوں نے وزیراعلی خیبر پختونخوا کے دورہ ڈی آئی خان پر سوال اٹھایا کہ اتنی طویل پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ نے افغانستان کا نام لے کر مذمت کیوں نہیں کی؟ صوبائی قیادت دہشت گردوں کے خلاف آخر کیوں نرم گوشہ اپنائے ہوئے ہے؟ انہوں نے کہا کہ کے پی کی سیاسی قیادت 14 سال سے سکیورٹی فورسز کی پشت پر کھڑی نہیں ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ کے پی حکومت بتائے کہ این ایف سی کے تحت ملنے والے 800 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ صوبے میں سی ٹی ڈی آج بھی کرائے کے مکانوں میں ہے اور فورسز کے پاس نہ بلٹ پروف گاڑیاں ہیں، نہ جیکٹس اور نہ ہی جدید ٹریننگ، جبکہ پولیس ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے پولیس سے اختیارات بھی چھیننے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ کے پی قیادت سکیورٹی اجلاسوں، اے پی سی اور نیشنل کانٹر ٹیررازم میٹنگز میں شرکت نہیں کرتی، صرف این ایف سی فنڈز مانگنے اسلام آباد آتی ہے،جب صوبائی حکومت قومی سلامتی کے فورمز سے راہ فرار اختیار کرے گی اور دشمن کا نام لینے سے کترائے گی تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے جیتی جائے گی؟صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے طلال چوہدری نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے 325 راستوں میں سے کوئی بند نہیں کیا گیا، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور عدالتی احکامات کے تحت کنٹینرز سمیت احتیاطی انتظامات رکھے گئے ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جائےگا جبکہ سامان والے کنٹینرز روکنے کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ فورنزک لیبز، سیف سٹیز اور جدید آلات کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا، مگر کے پی کے آدھے سے زائد اضلاع میں آج بھی سی ٹی ڈی موجود نہیں۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گردی سے شدید متاثرہ پشاور میں صرف 25 کیمرے تھے اور پہلا سیف سٹی پروجیکٹ اب مکمل ہونے کے قریب ہے۔ پنجاب نے سی ٹی ڈی اور سیف سٹیز بنا کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا ،کے پی حکومت نے 14 سال میں ادارے قائم نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد وفاقی وزیر اطلاعات کے ہمراہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر وفاق اور صوبوں کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔
سیاست کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں، پی ٹی آئی تمام حدود پار کرچکی ہے، عطا اللہ تارڑ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل