سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن نصیرآبادکا گڈو بیراج کا دورہ

سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن نصیرآبادکا گڈو بیراج کا دورہ

کشمور۔۔۔۔۔۔)بلوچستان کے حصے کے پانی کے حصول کے لیے سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ کا گڈو بیراج کا دورہ، سندھ حکام سے اہم ملاقات کشمور گڈو بیراج پر سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن مدثر ظفر کھوسہ نے بلوچستان کے حصے کے پانی کے حصول اور نہری نظام سے متعلق امور کا جائزہ لیا، اس موقع پر انہوں نے سندھ ایریگیشن حکام سے ملاقات کی۔ سپرنٹنڈنگ انجینئر گڈو بیراج دھنیش کمار نے مدثر ظفر کھوسہ کو پانی کی فراہمی، ترسیل اور تقسیم کار کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ اجلاس کے دوران مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ بلوچستان کے حصے کے پانی کی عدم فراہمی کا معاملہ وفاقی سطح پر ارسا کے اجلاس میں بھی اٹھایا گیا ہے، بلوچستان کو ملک بھر کے آبی ذخائر میں سے بمشکل 6450 کیوسک ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جارہا ہے۔جبکہ ہمارا حصہ 10700کیوسک ہے اس طرح 40 فیصد شارٹ فال ہے جبکہ پٹ فیڈر کینال میں ضرورت 6700 کیوسک ہے جبکہ اس وقت 4583 کیوسک دیا جارہا ہے اس طرح پٹ فیڈر کینال میں 32 فیصد شارٹ فال ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی اور صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمان بلوچ بھی بین الصوبائی سطح پر رابطوں کے ذریعے بلوچستان کے جائز حصے کے پانی کے حصول کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکام پر لازم ہے کہ ارسا قوانین کے تحت بلوچستان کو اس کے جائز حصے کا پانی فراہم کیا جائے تاکہ پٹ فیڈر کینال سمیت بلوچستان کے نہری نظام کو درپیش مسائل کا خاتمہ ہوسکے۔ دورے کے موقع پر سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ نے ڈیزرٹ پٹ فیڈر کینال آر ڈی زیرو کراس ریگولیٹر کا بھی معائنہ کیا۔ اجلاس میں سب ڈویڑنل آفیسر حاجی ممتاز علی سومرو، ایگزیکٹو انجینئر ایریگیشن کشمور ڈویژن گل بہار مزاری، ایس ڈی او سندھ عبداللہ نوناری اور نبی بخش بگٹی علی محمد کھوسہ سمیت دیگر حکام موجود تھے۔ مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ پٹ فیڈر کینال میں بلوچستان کے جائز حصے کے پانی کی فراہمی یقینی نہ ہونے کے باعث مقامی کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، گڈو بیراج پر موجود نمائندہ تمام صورتحال سے محکمہ آبپاشی کو آگاہ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دورے کا مقصد گڈو بیراج کا جائزہ لے کر پانی کی ترسیل اور تقسیم کے تمام امور کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنا اور حکام بالا کو آگاہی فراہم کرنا ہے، یہ تمام اقدامات بلوچستان کے کسانوں کے وسیع تر مفاد میں کیے جارہے ہیں تاکہ انہیں زرعی پانی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں