حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں کراچی تا اسلام آباد ”سپر ٹرین مارچ “روانہ

کراچی۔۔۔۔۔۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں پیٹرولیم لیوی، بھتہ ٹیکس اور آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں کے خلاف کراچی تا اسلام آباد ”سپر ٹرین مارچ “کا کراچی کینٹ اسٹیشن سے آغاز ہوگیا۔ کراچی کینٹ اسٹیشن پر ہزاروں کی تعداد میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور مارچ کے شرکاءموجود تھے، جہاں خواتین نظم کی ذمہ داران نے شرکائے مارچ کو اپنی دعاو¿ں میں اسلام آباد کے لیے رخصت کیا۔ امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ سندھ کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر ٹرین مارچ کے شرکاءکا استقبال کریں گے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ٹرین مارچ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے شروع ہونے والا یہ کاروان عوام کے مطالبات کی آواز بن کر اسلام آباد پہنچے گا۔حکمت عملی کے مطابق جماعت اسلامی کے کارکنان اور عوام کے قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوچکے ہیں، جبکہ آج بابِ خیبر اور بلوچستان سے بھی کاروان اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نوشتہ دیوار پڑھ لے، یہ کسی کی انا کا مسئلہ نہیں ہے۔ حکومت اپنا کریڈٹ لے اور بھتہ ٹیکس ختم کرے۔حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا راستہ موجود ہے پیٹرولیم لیوی ختم اور عوام پر عائد اضافی بوجھ کم کیا جائے۔اسلام آباد مارچ کسی پارٹی یا کسی فرد کی ذات کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے کیا جارہا ہے۔ حکومتی پالیسیوں کے باعث عوام بدترین پریشانی کا شکار ہیں، سفید پوش طبقہ اپنی زندگی کسمپرسی میں گزارنے پر مجبور ہے، جبکہ حکومت اپنی بدانتظامی اور ناقص پالیسیوں کا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے۔حکومت عالمی مارکیٹ کا بہانہ بنا کر عوام پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔ حکمران اشرافیہ کو لگام دینے، سرکاری و اشرافیائی اخراجات کم کرنے، گاڑیوں کی تعدادکم کرنے اور آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں پر نظرثانی کرنے کے بجائے عوام پر مزید ٹیکس عائد کیے جارہے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آئی پی پیز میں حکومت اور حکومت کے نمائندے موجود ہوتے ہیں، اسی طرح آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ریفائنری، آٹا اور چینی کے شعبوں میں بھی حکومتی لوگوں کی موجودگی اور مفادات کے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر مشکل برداشت کریں، لیکن اگر ہم گھر بیٹھ کر یہ سب کچھ برداشت کرتے رہیں گے تو عوام پر مزید بوجھ ڈالا جاتا رہے گا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عوام کے حقوق کے لیے میدان میں نکلنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ جماعت اسلامی نے کراچی میں 35 روز تک دھرنا دیا، سکھر، لاڑکانہ اور حیدرآباد میں دھرنے جاری ہیں، جبکہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی مارچ اور احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔ ہمیں شدید گرمی میں احتجاج کرنے کا کوئی شوق نہیں، لیکن عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگر پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہوگا اور عوامی احتجاج میں مزید شدت آئے گی۔ حکومت عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے لے اور فوری اقدامات کرے، ایسا نہ ہو کہ احتجاج حکومت گرا¶ تحریک میں تبدیل ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ کراچی سے اسلام آباد جانے والا یہ سپر ٹرین مارچ عوام کے اس مطالبے کی علامت ہے کہ انہیں مہنگائی، اضافی ٹیکسوں اور حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی دبا¶ سے نجات دلائی جائے۔ جب ہم اسلام آباد پہنچ جائیں گے تو اپنی بہنوں کو بھی بلائیں گے۔ کراچی کی خواتین بڑی تعداد میں کارکنان کو رخصت کرنے کے لیے اسٹیشن پر جمع ہیں اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے ٹرین مارچ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کراچی سے اسلام آباد جانے والا یہ کاروان صرف ایک سفر نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے جاری جدوجہد کا اہم مرحلہ ہے۔ہم 35 دن تک کراچی میں دھرنا دے چکے ہیں۔ شدید گرمی، مشکلات اور نامساعد حالات کے باوجود ہمارے کارکنان اور عوام اپنے مطالبات کے لیے ثابت قدم رہے۔ آج اسی جدوجہد کو آگے بڑھاتے ہوئے کراچی کا کاروان اسلام آباد کے لیے روانہ ہورہا ہے۔ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پیٹرولیم لیوی دراصل بھتہ ٹیکس ہے، جس کا پیٹرول کی عالمی قیمت سے کوئی تعلق نہیں۔آج عوام پیٹرول کی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جبکہ حکومت فی لیٹر 106 روپے لیوی کے نام پر وصول کررہی ہے۔عوام پوچھتے ہیں کہ آخر یہ اضافی بوجھ کب تک برداشت کریں؟ایک طرف قوم مہنگائی کے ہاتھوں پس رہی ہے، سفید پوش طبقہ اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے پریشان ہے، نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہیں، دوسری طرف حکمرانوں کے بیرونِ ملک دورے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ وزیراعظم کی صورتحال یہ ہے کہ بیرونِ ملک دورے مسلسل جاری ہیں، جبکہ ملک کے اندر عوام مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ہم حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ عوام کی مشکلات کو سمجھیں۔ عوام سے مزید قربانی مانگنے کے بجائے اشرافیہ کے اخراجات کم کیے جائیں، حکومتی عیاشیوں کا خاتمہ کیا جائے اور عوام پر عائد غیرضروری ٹیکس واپس لیے جائیں۔آج کراچی کا کاروان اسلام آباد کی جانب روانہ ہورہا ہے۔ کراچی سے یہ قافلہ حیدرآباد اور روہڑی پہنچے گا اور سندھ کے مختلف علاقوں سے مزید لوگ اس کاروان میں شامل ہوں گے۔ یہ سفر صرف کراچی کا سفر نہیں، بلکہ سندھ کے عوام کی آواز بھی اسلام آباد تک پہنچے گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ جب کراچی اور ملک کے مختلف حصوں سے عوام کے قافلے اسلام آباد کی جانب بڑھیں گے تو حکمرانوں کو عوام کے مطالبات سننا پڑیں گے۔ عوام کا یہ سمندر اسلام آباد کی جانب بڑھے گا اور حکمرانوں کو عوام کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرے گا۔آج کا یہ ٹرین مارچ اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ پیٹرولیم لیوی، بھتہ ٹیکس اور عوام پر عائد غیرضروری بوجھ کے خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔میں کراچی کے عوام، کارکنان، نوجوانوں اور خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے 35 روزہ دھرنے کے بعد بھی اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ آج یہ کاروان اسلام آباد کی طرف روانہ ہورہا ہے اور ان شاءاللہ عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچ کر رہے گی۔
٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں