کینیڈا ڈے اور اونٹاریو ڈے کی مناسبت سے استقبالیہ تقریب کا انعقاد
ٹورنٹو(پ ر)کینیڈا میں مقیم معروف پاکستانی نڑاد معالجین ڈاکٹر منصور میمن اور ڈاکٹر ارم قلبانی نے فرینک میک کچنی کمیونٹی سینٹر، مسی ساگا میں کینیڈا ڈے اور اونٹاریو ڈے کی مناسبت سے ایک پروقار اور تاریخی استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا، جس میں 250 سے زائد ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب میں سیاسی رہنماو¿ں، سفارتکاروں، پارلیمنٹیرینز، ہیلتھ کیئر ماہرین، کاروباری شخصیات، کمیونٹی لیڈرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا مقصد کینیڈا کی کثیرالثقافتی روایات، قومی یکجہتی، ثقافتی ہم آہنگی اور پاکستان و کینیڈا کے درمیان عوامی روابط کو فروغ دینا تھا۔ شرکائ نے اس منفرد تقریب کو دونوں ممالک کے درمیان دوستی، احترام اور ثقافتی روابط کی ایک خوبصورت مثال قرار دیا۔تقریب کے آغاز سے ہی فرینک میک کچنی کمیونٹی سینٹر کا آڈیٹوریم ایک پرجوش اور دوستانہ ماحول پیش کر رہا تھا جہاں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے معزز مہمانوں نے ایک دوسرے سے ملاقاتیں کیں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ مہمانوں کی تواضع کے لیے بہترین معیار کے لذیذ اسنیکس، مشروبات اور خصوصی عشائیے کا اہتمام کیا گیا تھا جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔تقریب کا سب سے جذباتی اور یادگار لمحہ پاکستان اور کینیڈا کے قومی ترانوں کی پیشکش تھی۔ دونوں ممالک کے قومی ترانے یکے بعد دیگرے بجائے گئے جس پر شرکائ احتراماً کھڑے ہوگئے۔ اس موقع پر حاضرین نے دونوں ممالک کے درمیان دوستی، رواداری اور مشترکہ اقدار کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔بعد ازاں کینیڈا ڈے اور اونٹاریو ڈے کی مناسبت سے ایک خصوصی اور شاندار کیک کاٹا گیا۔ کیک کاٹنے کی تقریب میں مختلف ممالک کے سفارتکاروں، سیاسی رہنماو¿ں اور کمیونٹی شخصیات نے شرکت کی اور اس موقع کو یادگار بنایا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اونٹاریو کے ڈپٹی پریمیئر نے ڈاکٹر منصور میمن اور ڈاکٹر ارم قلبانی کو اس شاندار اور منفرد تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات مختلف ثقافتوں اور کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اس موقع پر مسی ساگا کی میئر کیرولین پیرش نے خصوصی ویڈیو پیغام کے ذریعے شرکائ سے خطاب کیا۔ انہوں نے تمام کینیڈین شہریوں کو کینیڈا ڈے کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر منصور میمن اور ڈاکٹر ارم قلبانی کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ میئر نے کہا کہ دونوں معالجین نے صحت، سماجی خدمت اور کمیونٹی کی ترقی کے شعبوں میں غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے جس کے باعث انہیں عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔انہوں نے خصوصی طور پر ڈاکٹر منصور میمن کو حکومت پاکستان کی جانب سے عطا کیے گئے اعلیٰ سول اعزاز تمغ? امتیاز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز ان کی کئی دہائیوں پر محیط عوامی، طبی اور سماجی خدمات کا اعتراف ہے۔تقریب میں شریک ارکان پارلیمنٹ اور دیگر منتخب عوامی نمائندوں نے بھی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر منصور میمن اور ڈاکٹر ارم قلبانی کی خدمات کو سراہا۔ مقررین نے کہا کہ دونوں شخصیات نہ صرف کینیڈین معاشرے بلکہ بین الاقوامی سطح پر صحت کے شعبے، کمیونٹی ویلفیئر اور سماجی ترقی کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ثقافتی ہم آہنگی اور اپنی تہذیبی روایات کے اظہار کے لیے میزبانوں نے معزز مہمانوں کو سندھ اور وادی سندھ کی ثقافت کی نمائندہ اجرکیں اور روایتی شالیں بطور تحفہ پیش کیں۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ اجرک محبت، احترام، امن اور مہمان نوازی کی علامت ہے اور صدیوں پرانی تہذیبی روایات کی عکاس ہے۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر منصور میمن اور ڈاکٹر ارم قلبانی نے خطاب کرتے ہوئے اپنی کامیابیوں اور خدمات کا سہرا اپنے والدین کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی تربیت، رہنمائی اور اعلیٰ اقدار نے انہیں انسانیت کی خدمت، کمیونٹی کی فلاح اور پیشہ ورانہ دیانت داری کے راستے پر گامزن کیا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی صحت، تعلیم، کمیونٹی ویلفیئر اور مختلف ثقافتوں کے درمیان رابطوں کے فروغ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔اس موقع پر ڈاکٹر منصور میمن اور ڈاکٹر ارم قلبانی نے اپنے خطاب میں کہا“حقیقی روابط صرف لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ انہیں بااختیار بنانے، صحت کے شعبے میں رکاوٹوں کو ختم کرنے اور ایسی مضبوط کمیونٹیز تشکیل دینے کا عمل ہے جہاں بیرون ملک سے آنے والے گریجویٹس اور مقامی پیشہ ور افراد کو یکساں مواقع، شناخت اور مقصد حاصل ہو۔”تقریب کے اختتام پر شرکاءنے ڈاکٹر منصور میمن اور ڈاکٹر ارم قلبانی کی جانب سے منعقدہ اس شاندار اور منفرد تقریب کو ثقافتی سفارتکاری، کمیونٹی رابطوں، قومی یکجہتی اور سماجی خدمت کی ایک بہترین مثال قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی تقریبات مستقبل میں بھی مختلف برادریوں اور ثقافتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گے۔