کوئٹہ(یو این اے) پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صوبائی سینئر نائب صدر اور معروف قبائلی شخصیت سید صادق آغا نے صوبے میں آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور غذائی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام پہلے ہی بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی بدحالی سے دوچار ہیں، ایسے حالات میں 50 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 8 ہزار روپے تک پہنچ جانا غریب خاندانوں کیلئے شدید مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے کے قابل بنانا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں عام آدمی کیلئے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا بھی ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ محکمہ خوراک کو واضح کرنا چاہیے کہ آٹے کی قیمتوں میں اس قدر اضافے کی وجوہات کیا ہیں۔سرکاری گندم اور آٹے کی تقسیم کا نظام کس طرح کام کررہا ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ محض اجلاس منعقد کرنے اور بیانات جاری کرنے سے بحران ختم نہیں ہوگا، بلکہ عملی اقدامات، مثر نگرانی اور ذمہ داروں کے تعین کی ضرورت ہے۔ سید صادق آغا نے کہا کہ حکومت کو آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کرنے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ ضلعی انتظامیہ بازاروں میں آٹے کی قیمتوں کی نگرانی کرے اور سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہوتے تو عوام کو بنیادی غذائی ضرورت کے حصول کیلئے اس قدر بھاری قیمت ادا نہ کرنا پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے دعوے اسی وقت قابل قبول ہوسکتے ہیں جب عام شہری کو ان کا عملی فائدہ پہنچے۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بسنے والے غریب خاندان پہلے ہی محدود آمدن کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ایسے میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ان کی زندگی مزید اجیرن بنا رہا ہے۔
آٹا بحران اور قیمت میں اضافہ عوام کیساتھ ظلم ہے،سید صادق آغا
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل