اس دن معاہدہ ہو جاتا تو ایمرجنسی نہیں لگتی، ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا ایمرجنسی لگے،محسن نقوی

اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اس دن معاہدہ ہو جاتا تو آج ایمرجنسی نہ لگتی، ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا ایمرجنسی لگے، مذاکرات کے دوران چوتھی دفعہ 6 تبدیلیاں تجویز کی گئیں ہم نے ان سب کو مانا، جب سب طے ہوا تو تحریر وزیراعلیٰ کو دی گئی ، وزیراعلیٰ نے وہ ٹیکسٹ مراد سعید کو بھیجا، اس کے بعد دو دن کی محنت ضائع ہو گئی، ایمرجنسی اور گورنرراج کا آپشن 26 نومبر کو بھی تھا۔ سینیٹ میں بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا ہم یہ نہیں کر سکتے کہ فوج اور پولیس والے شہادتیں دیں، ہماری شہادت ہوتی تھیں اور سی ایم ان کے خلاف تقریر کرتے تھے جو شہید ہوئے، ہم نے سیاسی بات کو دہشتگردی سے نتھی نہیں کیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایوان میں مذاکرات ہوئے، ہماری بات چیت شروع ہی دہشتگردی پر ہوئی تھی، دہشتگردی کے 7 سے 8 نکات پر بات ہوئی، اسد قیصر نے کہا ہم ان سب نکات پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، اسد قیصر سے کہا آپ کا اور کے پی حکومت کا نقطہ نظر الگ ہے، پہلے کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی تھی۔محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران چوتھی دفعہ 6 تبدیلیاں تجویز کی گئیں ہم نے ان سب کو مانا، جب سب طے ہوا تو تحریر وزیراعلیٰ کو دی گئی ، وزیراعلیٰ نے وہ ٹیکسٹ مراد سعید کو بھیجا، اس کے بعد دو دن کی محنت ضائع ہو گئی۔نجی ٹی وی کے مطابق صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے کہا سہیل آفریدی کو مراد سعید آپریٹ کرتے تھے مراد سعید کہاں ہیں؟ جس پر محسن نقوی نے جواب دیا کہ مراد سعید سے متعلق تمام انفارمیشن ہے آپ کو بتاﺅں گا۔محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنرراج کا آپشن 26 نومبر کو بھی تھا، 25 نومبر کو جب دھاوا بولا جا رہا تھا تو پی ٹی آئی کو کہا کہ ہم آپ کو جگہ دیتے ہیں، انہوں نے کہا نہیں ہماری بانی سے فون پر بات کرائی جائے پھردھرنے کو مخر کریں گے، جب فون پر بات ہوئی تو آدھی پارٹی نے کہا ہم مانتے ہی نہیں، کہا گیا کہ ہم مانیں گے جب ویڈیو میسج ریکارڈ کروائیں گے۔محسن نقوی نے کہا بیرسٹر گوہر سے کہا کہ آپ جاکر ان کا ویڈیو میسج ریکارڈ کر لیں، ہم نے دو گھنٹے انتظار کیا انہوں نے کہا سلاخوں کے پیچھے سے بیان ریکارڈ کراﺅں گا، ہم نے وزیراعظم اور صدر کو بتایا، ہم سلاخوں کے پیچھے لےکرگئے انہوں نے کہا میں نے آج ریکارڈ نہیں کرنا کل کروں گا، ہم نے کہا دھرنا ہے وہ آپ کی ریکارڈ نگ کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد انہوں نے کہا میرے وکیلوں کو بلائیں پھر کروں گا۔محسن نقوی نے کہا کہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی، سوال کیا کہ آپ بتا دیں آئین کی کونسی شق کی خلاف ورزی ہوئی؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایک ایک شق کو بیٹھ کر دیکھا، آئین کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ اس ایکٹ کو غلط صحیح کہہ سکتے ہیں، ہمارے خیال میں یہ اقدام درست ہے۔

اس دن معاہدہ ہو جاتا تو ایمرجنسی نہیں لگتی، ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا ایمرجنسی لگے،محسن نقوی

اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اس دن معاہدہ ہو جاتا تو آج ایمرجنسی نہ لگتی، ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا ایمرجنسی لگے، مذاکرات کے دوران چوتھی دفعہ 6 تبدیلیاں تجویز کی گئیں ہم نے ان سب کو مانا، جب سب طے ہوا تو تحریر وزیراعلیٰ کو دی گئی ، وزیراعلیٰ نے وہ ٹیکسٹ مراد سعید کو بھیجا، اس کے بعد دو دن کی محنت ضائع ہو گئی، ایمرجنسی اور گورنرراج کا آپشن 26 نومبر کو بھی تھا۔ سینیٹ میں بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا ہم یہ نہیں کر سکتے کہ فوج اور پولیس والے شہادتیں دیں، ہماری شہادت ہوتی تھیں اور سی ایم ان کے خلاف تقریر کرتے تھے جو شہید ہوئے، ہم نے سیاسی بات کو دہشتگردی سے نتھی نہیں کیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایوان میں مذاکرات ہوئے، ہماری بات چیت شروع ہی دہشتگردی پر ہوئی تھی، دہشتگردی کے 7 سے 8 نکات پر بات ہوئی، اسد قیصر نے کہا ہم ان سب نکات پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، اسد قیصر سے کہا آپ کا اور کے پی حکومت کا نقطہ نظر الگ ہے، پہلے کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی تھی۔محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران چوتھی دفعہ 6 تبدیلیاں تجویز کی گئیں ہم نے ان سب کو مانا، جب سب طے ہوا تو تحریر وزیراعلیٰ کو دی گئی ، وزیراعلیٰ نے وہ ٹیکسٹ مراد سعید کو بھیجا، اس کے بعد دو دن کی محنت ضائع ہو گئی۔نجی ٹی وی کے مطابق صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے کہا سہیل آفریدی کو مراد سعید آپریٹ کرتے تھے مراد سعید کہاں ہیں؟ جس پر محسن نقوی نے جواب دیا کہ مراد سعید سے متعلق تمام انفارمیشن ہے آپ کو بتاﺅں گا۔محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنرراج کا آپشن 26 نومبر کو بھی تھا، 25 نومبر کو جب دھاوا بولا جا رہا تھا تو پی ٹی آئی کو کہا کہ ہم آپ کو جگہ دیتے ہیں، انہوں نے کہا نہیں ہماری بانی سے فون پر بات کرائی جائے پھردھرنے کو مخر کریں گے، جب فون پر بات ہوئی تو آدھی پارٹی نے کہا ہم مانتے ہی نہیں، کہا گیا کہ ہم مانیں گے جب ویڈیو میسج ریکارڈ کروائیں گے۔محسن نقوی نے کہا بیرسٹر گوہر سے کہا کہ آپ جاکر ان کا ویڈیو میسج ریکارڈ کر لیں، ہم نے دو گھنٹے انتظار کیا انہوں نے کہا سلاخوں کے پیچھے سے بیان ریکارڈ کراﺅں گا، ہم نے وزیراعظم اور صدر کو بتایا، ہم سلاخوں کے پیچھے لےکرگئے انہوں نے کہا میں نے آج ریکارڈ نہیں کرنا کل کروں گا، ہم نے کہا دھرنا ہے وہ آپ کی ریکارڈ نگ کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد انہوں نے کہا میرے وکیلوں کو بلائیں پھر کروں گا۔محسن نقوی نے کہا کہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی، سوال کیا کہ آپ بتا دیں آئین کی کونسی شق کی خلاف ورزی ہوئی؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایک ایک شق کو بیٹھ کر دیکھا، آئین کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ اس ایکٹ کو غلط صحیح کہہ سکتے ہیں، ہمارے خیال میں یہ اقدام درست ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں