کوئٹہ۔۔۔۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صوبائی سینئر نائب صدر اور معروف قبائلی شخصیت سید صادق آغا نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ، منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنے اور پی ٹی آئی رہنماں و کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کا جواب طاقت، گرفتاریوں اور پابندیوں سے دینا مسائل کا حل نہیں بلکہ سیاسی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ جمہوری نظام میں عوام کے ووٹ، آئین اور صوبائی خودمختاری کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، جنید اکبر اور دیگر رہنماں کی حراست سمیت کارکنوں کے خلاف کارروائیاں تشویش ناک ہیں۔ اگر کسی فرد کے خلاف کوئی قانونی الزام ہے تو شفاف قانونی طریقہ اختیار کیا جائے، لیکن سیاسی سرگرمیوں کی بنیاد پر کارکنوں کو ہراساں کرنا اور اختلافی آوازوں کو دبانا جمہوری روایات کے منافی ہے۔ امن و امان کا قیام یقینا ریاست کی ذمہ داری ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور سیاسی اختلاف کو الگ الگ تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔سید صادق آغا نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی جانب سے 14 اکتوبر سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کے اعلان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے سیاسی جماعتوں کو پرامن، متحد اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ عوام کو اپنے جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم احتجاج کو پرامن رکھا جائے اور عوامی املاک، کاروبار اور شہریوں کی آمدورفت کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتِ حال پورے ملک کی سیاسی فضا پر اثر انداز ہوسکتی ہے، اس لیے وفاقی حکومت اور اپوزیشن کو محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ اختلافات کو پارلیمنٹ، عدالتوں اور مذاکرات کے ذریعے حل کرے تاکہ ملک کو مزید سیاسی عدم استحکام سے بچایا جاسکے۔
گورنر راج کے بعد پی ٹی ائی پر بربریت کا سلسلہ جاری ہے، سید صادق آغا
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل