کوئٹہ۔۔۔۔۔۔آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے صدر حبیب اللہ خان بادیزئی، جنرل سیکرٹری میر اکبر لہڑی، حاجی موسی جان اچکزئی اور حاجی ولو ناصر نے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر امن و امان کی بدترین صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہراہ پر مسلح گروہوں کی جانب سے مبینہ طور پر ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں پانچ پانچ مسافر گاڑیوں، ان میں سوار مسافروں اور عملے کو یرغمال بنا کر لے جانے کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں، جبکہ ان واقعات کو روکنے اور مسافروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مثر اقدامات نظر نہیں آرہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے، لیکن کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر پیش آنے والے واقعات ان دعوں پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔ قومی شاہراہ پر سفر کرنے والے شہریوں، ٹرانسپورٹروں اور مسافر گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو تحفظ حاصل نہ ہو تو اس سے نہ صرف عوام میں خوف و ہراس پھیلتا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔ٹرانسپورٹرز کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں اور ان میں سفر کرنے والے سینکڑوں افراد کی زندگیاں مبینہ طور پر مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر ہونا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ٹرانسپورٹر رہنماں نے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ بلوچستان کی اہم ترین تجارتی اور سفری گزرگاہ ہے، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مسافر، تاجر، ملازمین اور دیگر شہری سفر کرتے ہیں۔اس شاہراہ پر بدامنی کے باعث مسافروں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹرز کو مالی نقصانات، گاڑیوں کے چھینے جانے اور عملے و مسافروں کی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔ اگر قومی شاہراہوں پر سفر کرنے والے شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کو تحفظ فراہم نہ کیا جاسکے تو معمولات زندگی اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان، متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اور مثر اقدامات کیے جائیں، مسافر گاڑیوں کو یرغمال بنانے کے واقعات کی شفاف تحقیقات کرکے ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور مسافروں، ڈرائیوروں، کنڈکٹروں اور ٹرانسپورٹرز کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محض بیانات اور یقین دہانیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوام کو تحفظ کا احساس دلانا ہوگا۔ حکومت اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ شہری بلا خوف و خطر سفر کرسکیں اور بلوچستان کی اہم قومی شاہراہ پر ٹرانسپورٹ کا نظام معمول کے مطابق جاری رہ سکے۔
کوئٹہ کراچی شاہراہ ڈاکوں کے رحم وکرم پر ہے، ٹرانسپورٹرز
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل