خیبر پختونخوا سے ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرکے آئینی حکومت بحال کی جائے، پشتونخوا میپ

کوئٹہ۔۔۔۔۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرکے صوبے میں آئینی حکومت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق محمود خان اچکزئی کی جانب سے احتجاج کے اعلان پر 14 اکتوبر کو بلوچستان کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں آئینی، سیاسی اور جمہوری احتجاج روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات آئین، جمہوری اصولوں اور وفاقی روایات کی خلاف ورزی ہیں۔ اس سلسلے میں 13 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل اتحادی جماعتوں کا اجلاس بھی منعقد ہوگا، جس میں احتجاجی مظاہروں کی تیاریوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔پشتونخوا میپ نے کہا کہ ملک کی موجودہ بحرانی صورتحال کا حل باہمی مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے اور جمہوریت پسند قوتیں، سیاسی جماعتیں اور عوام اپنا جمہوری کردار ادا کریں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ طاقت کے استعمال اور زبردستی کے اقدامات جاری رکھنے کے نتائج سنگین ہوں گے، جن کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔بیان میں 8 فروری 2024 کے انتخابات کے نتائج پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے انتخابی نشان کے بغیر بھی اپنی جماعت کی عوامی حمایت ثابت کی، تاہم پارٹی کے مطابق عوامی مینڈیٹ کو محدود کرنے کے اقدامات سے سیاسی عدم استحکام اور انتشار میں اضافہ ہوا ہے۔پشتونخوا میپ نے ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمہوری سیاسی جماعتوں، وطن دوست قوتوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر جمہوری اقدامات کے خلاف احتجاج کریں اور آئین و جمہوریت کی بحالی کے لیے آواز بلند کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں