جدید آلات کے ذریعے مائنز انسپکشن یقینی بنائی جائے: علی باش خان

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر)پاکستان کول مائنز مزدور یونین کے نائب صدر اور پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کی ایگزیکٹیو کونسل کے رکن علی باش خان نے کہا ہے کہ کوئلے کی کانوں میں پیش آنے والے حادثات کی روک تھام اور کان کنوں کی قیمتی زندگی کے تحفظ کیلئے ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ، حفاظتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور جدید آلات کے ذریعے مائنز انسپکشن کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شانگلہ کول مائنز ورکرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (سموا)کے بانی ممبرعلی باش خان نے کہاکہ کان کنی کے شعبے میں مزدوروں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے، مائنزمیں حفاظتی انتظامات کو نظرانداز کرنے اور قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث کان کنوں کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور مائنز میں حفاظتی قوانین کی پابندی کو یقینی بنائیں۔علی باش خان نے مطالبہ کیا کہ مائنز میں ٹھیکیداری نظام کے خاتمے کیلئے مو¿ثر اقدامات کیے جائیں، حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور مائنزکے معائنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور آلات استعمال کیے جائیں، تاکہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کرکے حادثات کو روکا جا سکے۔پاکستان کول مائنز مزدور یونین کے نائب صدرنے کہا کہ کان کن ملکی معیشت کیلئے اہم خدمات انجام دے رہے ہیں لہٰذا ان کی زندگیوں کا تحفظ، محفوظ ماحول میں کام کرنے کے مواقع اور بنیادی حقوق کی فراہمی متعلقہ حکام اور اداروںکی ذمہ داری ہے، مائنز میں حفاظتی اقدامات کو محض رسمی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر نافذ کیا جائے، تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ علی باش خان نے مزید کہا کہ مزدوروں کولیبر قوانین کے بنیادی نکات، ملازمین کے قانونی حقوق، اجرتوں کی ادائیگی، اوقات کار، ہفتہ وار تعطیلات، سالانہ و دیگر چھٹیوں، سوشل سکیورٹی، پنشن، پیشہ ورانہ تحفظ اور کام کی جگہ پر صحت و سلامتی کے اصولوں کے بارے، مزدوروں اور انتظامیہ کے درمیان باہمی احترام، مکالمے اور قانون کی پاسداری کو فروغ دینے اور ٹریڈ یونین کے کردارکے حوالے سے آگاہی دی جانی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں