تربت ……. جامعہ تربت کے انسٹی ٹیوٹ آف بلوچی لینگویج اینڈ کلچر (آئی بی ایل سی) کا ایک اہم اجلاس 12 اکتوبر 2026 کو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبد الصبور کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں نئے داخلوں، تعلیمی پروگراموں میں مزید جدت لانے ، انہیں ایچ ای سی گائیڈ لائنز اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے علاوہ آئندہ ہونے والے بورڈ آف اسٹڈیز و فیکلٹی بورڈ کے اجلاسوں کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عبد الصبور نے کہا کہ بلوچی زبان و ادب اور ثقافت کی ترویج و تحفظ کے لیے تعلیمی پروگراموں کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اجلاس میں یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے بلوچی زبان و ادب کی ترویج کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی پر مبنی متعدد مشترکہ منصوبے شروع کرنے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے نصاب کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گائیڈلائنز اور مارکیٹ کی ضروریا ت کے مطابق آراستہ کرنے اور معیار کو برقرار رکھنے کے علاوہ یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان 2026-2030 کے اہداف کے حصول پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ یہ تمام تجاویز و منصوبے غور و خوض اور حتمی منظوری کے لیے ڈیپارٹمنٹل بورڈ آف اسٹڈیز اور فیکلٹی بورڈ سمیت آئندہ آئینی اجلاسوں میں پیش کی جائیں گی۔ علاوہ ازیں، سید ہاشمی سال کی مناسبت سے رواں برس نومبر کے آخر میں ایک روزہ قومی سیمینار کے انعقاد کی بھی منظوری دی گئی۔
جامعہ تربت: بلوچی زبان و ادب کے فروغ کے لیے مصنوعی ذہانت سے استفادے کا فیصلہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل