اساتذہ قوم کے معمار ہیں، مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ

گوادر(خ ن) محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ گوادر کے زیرِ اہتمام اور یونیسف کے تعاون سے عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول گوادر میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس سال کی تقریب گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول پسنی کی سابق استانی مرحومہ مہر النساءکی تعلیمی و تدریسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے نام سے منسوب کی گئی تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ بطور مہمانِ خصوصی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف گوادر عبدالرزاق صابر، ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر معین الرحمٰن خان، ڈپٹی کمشنر گوادر نجیب اللہ کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر ذاہد حسین سمیت اساتذہ کرام، اسکول پرنسپلز، سیاسی و سماجی شخصیات اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ قوم کے معمار ہیں اور ان کا احترام معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں گزشتہ دس سال سے عالمی یومِ اساتذہ کی تقریبات کا مسلسل انعقاد اساتذہ کی خدمات کے اعتراف اور ان کی حوصلہ افزائی کی ایک مثبت روایت ہے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ قلم سے زیادہ طاقتور کوئی چیز نہیں، طلبہ و طالبات کو چاہیے کہ وہ تعلیم اور قلم کی طاقت سے اپنے حقوق کی جنگ لڑیں، نہ کہ کسی دوسرے راستے کا انتخاب کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جن اقوام نے ترقی اور کامیابی حاصل کی، انہوں نے تعلیم کو ترجیح دی اور اپنے تعلیمی نظام کو مضبوط بنایا انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کی کاو¿نسلنگ اور رہنمائی بھی کریں، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور رجحانات کو سمجھتے ہوئے مستقبل کے لیے درست راستے کا انتخاب کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کی بہتری، خستہ حال اسکولوں کی بحالی اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے ترقیاتی وسائل اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے مختلف اقدامات جاری ہیں رکن صوبائی اسمبلی نے بتایا کہ دورانِ سروس وفات پانے والے اساتذہ کے لواحقین کے ان سروس ڈیتھ کوٹہ سے متعلق درخواستوں پر کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور ان کے تقرری کے احکامات رواں ماہ جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کو تعلیمی میدان میں مزید آگے لے جانے کے لیے اساتذہ، طلبہ، والدین، عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگاوائس چانسلر یونیورسٹی آف گوادر عبدالرزاق صابر نے اپنے خطاب میں کہا کہ معیاری تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور اس مقصد کے حصول میں استاد کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اساتذہ کی رہنمائی، طلبہ کی کردار سازی اور ان کی فکری تربیت روشن مستقبل کی بنیاد ہے ڈپٹی کمشنر گوادر نجیب اللہ کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کو معاشرے کا معمار قرار دیا اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع گوادر میں تعلیمی معیار کی بہتری، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور طلبہ و اساتذہ کو بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کی مشترکہ کاوشوں سے ضلع گوادر کے تمام 62 غیر فعال اسکول بحال کرکے فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ گریڈ 1 سے 15 تک مختلف مراحل میں 509 اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی مکمل کی جا چکی ہے۔ جبکہ 140 سیکنڈری اسکول ٹیچرز کی ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی کے لیے گوادر کا انتخاب کیا گیا ہے، امیدواروں کی فہرستیں جاری ہو چکی ہیں اور تقرری کے احکامات جلد جاری کیے جائیں گے ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ مختلف اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی مرمت و بحالی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ گرمی کے موسم میں طلبہ و اساتذہ کو بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے اسکولوں کی سولرائزیشن بھی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان بھر میں رواں سال 2 لاکھ 87 ہزار بچوں کے اسکول داخلے کے مقررہ ہدف میں گوادر نے اپنا ہدف مقررہ مدت سے قبل حاصل کر لیا ہے، جو ضلع میں تعلیمی شعبے کی ایک اہم پیش رفت ہے ضلعی ایجوکیشن آفیسر گوادر ذاہد حسین نے خطاب کرتے ہوئے ضلع میں تعلیمی شعبے کی پیش رفت، اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی بھرتی اور تعلیمی اداروں میں سہولیات کی بہتری کے حوالے سے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور انہیں سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے سے تدریسی عمل کو مزید مو¿ثر بنایا جا سکتا ہے۔تقریب کے دوران مرحومہ مہر النساءکی تعلیمی و تدریسی خدمات کو خصوصی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ مقررین نے ان کی خوش اخلاقی، محنت، فرض شناسی اور نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں، بالخصوص چائلڈ کلب اور کھیلوں کے فروغ میں نمایاں کردار کو سراہتے ہوئے ان کی ناگہانی وفات کو محکمہ تعلیم اور تعلیمی حلقوں کے لیے بڑا نقصان قرار دیا تقریب کے اختتام پر یونیورسٹی، کالجز اور اسکولوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز، ایوارڈز اور تحائف تقسیم کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں