اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ نہیں ہوگا خیبر پختونخوا میں راج نہیں لگے گا‘حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑی پیشرفت

اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑی پیشرفت ہوگئی، اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ نہیں ہوگا، حکومت اور اپوزیشن میں اتقاق ہوگیا۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے مذاکرات ہوئے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فریقین میں بہت سے معاملات طے پا گئے ہیں۔ فریقین اس بات پر رضامند ہوگئے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں راج نہیں لگایا جائے گا۔حکومت اوراپوزیشن اس بات پر متفق ہیں کہ بانی پی ٹی آئی سے عدالتی احکامات کی روشنی میں ملاقاتیں بحال ہوں گی اور اسلام آباد کی جانب کوئی لانگ مارچ نہیں ہوگا۔حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بڑی وجہ سامنے آگئی ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے مذاکرات رات گئے تک جاری رہے، معاہدے پر دستخط سے قبل اتوار کو مذاکرات کا تیسرا دور بھی ہوسکتا ہے۔مذاکرات میں فریقین معاہدے کی بیشتر شرائط پر آمادہ ہوچکے ہیں، کسی فیصلے کی گارنٹی سے قبل عمران خان سے ملاقات کرانے کا معاملہ ڈیڈ لاک کا باعث بنا ہے، ایک نکتے پر اختلاف کے باعث مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی کی طرف سے بھی تجویز کی حمایت کی گئی ہے، ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے فریقین نے ایک دوسرے سے مشاورت کی، حکومت راجہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کی عمران خان سے ملاقات پر رضامند ہے۔حکومت نے پی ٹی آئی سے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے، اپوزیشن نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی رہائی کا معاملہ بھی مذاکرات میں اٹھایا اور پی ٹی آئی کے تمام پارلیمنٹیرینز اور کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔محمود اچکزئی نے پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم سے کہا کہ عمران خان سے ملاقات سے پہلے لانگ مارچ مخر نہیں ہوگا، کسی بھی فیصلے سے قبل سہیل آفریدی کی سابق وزیر اعظم سے ملاقات کروائی جائے۔اپوزیشن لیڈر نے یقین دہائی کروائی کہ سہیل آفریدی اور عمران خان کی ملاقات میں جو بھی گفتگو ہوگی اسے راز رکھا جائے گا، اگر بانی پی ٹی آئی نے کوئی سخت پیغام بھیجا تو پھر ہم جا کر ملاقات کریں گے، پی ٹی آئی کسی بھی فیصلے کی گارنٹی سے قبل بانی سے ملاقات کرے۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی حکومت اور اپوزیشن میں معاہدے کا مسودہ لے کر پارلیمنٹ ہاس سے روانہ ہوئئے۔ وہ ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات میں مذاکرات سے متعلق مسودے کی منظوری لی اور وزیراعظم کو ٹیلی فون پر اعتماد میں لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں